میٹ 40: ہواوے کے نئے میٹ 40 سمارٹ فونز میں نیا کیا ہے؟

    • مصنف, لیو کلیون
    • عہدہ, ٹیکنالوجی ڈیسک ایڈیٹر

ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے اپنا نیا میٹ 40 سمارٹ فون متعارف کروا دیا ہے جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس میں ایپل کے نئے آئی فون 12 سے بہتر پروسیسر ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ پروسیسر آئی فون میں استعمال کی گئی چِپ کی طرح ’فائیو نینومیٹر‘ تیکنیک پر ہی بنایا گیا ہے۔ ہواوے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اُن کے پروسیسر میں اربوں ٹرانزسٹر نصب ہیں جو ایپل کے اے 14 پروسیسر سے 30 فیصد زیادہ ہیں۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان خصوصیات کے باعث ان کا نیا میٹ 40 سمارٹ فون آئی فون 12 سے ’زیادہ طاقتور‘ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم ہواوے نے کہا ہے کہ ان کے پاس اِن چپس کی کمی ہے جو میٹ 40 میں استعمال کی گئی ہیں کیونکہ یہ چِپ امریکہ سے برآمد کی جا رہی تھی مگر رواں برس ستمبر سے امریکہ نے چین پر تجارتی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ اگر کمپنی کے پاس کیرن 9000 نامی یہ پروسیسرز ختم ہو گئے تو ایک عرصے کے بعد مزید میٹ 40 سمارٹ فون نہیں بنا سکیں گے۔

پوری دنیا میں فی الحال صرف دو کمپنیوں کے پاس فائیو نینو میٹر کی چِپ بنانے کی صلاحیت ہے۔ ان میں تائیوان کی ٹی ایس ایم سی اور جنوبی کوریا کی سام سنگ شامل ہیں۔

امریکی پابندیوں کے باعث دونوں کمپنیوں کو منع کیا گیا ہے کہ وہ یہ چِپ یا کوئی بھی سیمی کنڈکٹر (نیم موصل) پراڈکٹ چینی کمپنی ہواوے کو نہ بھیجیں۔ یا کوئی بھی ایسی پراڈکٹ جس میں ’امریکی ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر‘ کا استعمال کیا گیا ہو۔

امریکہ کے مطابق یہ فیصلہ قومی سلامتی کی بنیاد پر کیا گیا ہے لیکن ہواوے کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے لیے کسی خطرے کا باعث نہیں ہے۔

بی بی سی نے ہواوے سے یہ پوچھنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے سٹاک میں فی الوقت کتنی چِپس موجود ہیں تاہم کمپنی نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا ہے۔

ایک آن لائن پیشکش کے دوران ہواوے کمپنی کے کنزیومر ڈیوائسز افسر ریچرڈ یو نے تسلیم کیا تھا کہ امریکی تجارتی پابندی کے باعث کمپنی کافی مشکلات کا شکار ہے۔

ہواوے کو واشنگٹن کی جانب سے دیگر کئی پابندیوں کا سامنا ہے۔ امریکہ میں سنہ 2019 کے وسط کے بعد سے اس کمپنی کا کوئی سمارٹ فون متعارف نہیں کرایا جا سکا جبکہ پلے سٹور سمیت اس کے فون گوگل کی کئی سروسز بھی نہیں استعمال کر سکتیں۔

اس سب کے باوجود ہواوے کے فونز دنیا میں تیسرے نمبر پر سب سے فروخت ہوئے ہیں اور چین میں یہ سب سے بڑی سمارٹ فون کمپنی ہے۔

ٹیکنالوجی ماہر مو جیا کا کہنا ہے کہ ’چین میں ہواوے اعلیٰ مقام رکھتا ہے اور لوگوں میں اس برانڈ سے متعلق زیادہ آگاہی موجود ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ چین میں میٹ 40 کی طلب زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ اس کے باوجود امریکی پابندیوں کے دوران کیرن چِپ سمیت دیگر پرزوں کی کمی کی وجہ سے ہواوے کا یہ نیا فون محدود رہے گا۔

ہواوے میٹ 40 سمارٹ فون کی نمایاں خصوصیات

ہواوے میٹ 40 کا سب سے سستا ماڈل 1049 امریکی ڈالر کا ہے۔ اس میں 6.5 انچ کی او ایل ای ڈی سکرین ہے۔ اس کے تین مہنگے ماڈلز کی قیمتیں 2,708 امریکی ڈالر تک جاتی ہے اور ان میں 6.8 انچ کی سکرین ہے۔

ہر فون میں 90 ہرٹز کا ریفرش ریٹ ہے، جس کا مطلب ہے کہ فون کی سکرین پر ہر سیکنڈ میں 90 فریم چل سکتے ہیں۔ یہ تعداد ایپل کے نئے آئی فون 12 اور سام سنگ کی ایس 20 سیریز سے کہیں زیادہ ہے۔

مسٹر یو کہتے ہیں کہ اس تکنیک سے سکرین بہتر کارکردگی کرتی ہے اور فون کی بیٹری بھی طویل دورانیے تک چلتی ہے۔

اس سمارٹ فون کے ماڈلز کو کیمروں کی مدد سے تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  • سب سے سستے ماڈل میں سیلفی لینے کے لیے صرف ایک کیمرہ ہے اور تین کیمرے پیچھے ہیں (وائڈ اینگل، الٹرا وائڈ اینگل اور ٹیلی فوٹو)
  • میٹ 40 پرو میں فیس ان لاک کے لیے ’تھری ڈی سینسر‘ ہے اور اس کے کیمرے پہلے ماڈل سے بہتر ہیں
  • میٹ 40 پرو پلس میں پیچھے چوتھے کیمرے کا مقصد ’سپر زوم‘ ہے اور پانچویں کیمرے سے کم فوکس کے ساتھ اچھی تصاویر لی جا سکتی ہیں
  • میٹ 40 پورشے ڈیزائن آر ایس میں ’تھرما میٹر‘ ہے جس سے مقامی درجہ حرارت دیکھا جا سکتا ہے

فی الحال چین سے باہر صرف پرو ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے اور اس کی قیمت 1,297 امریکی ڈالر ہے۔

تصاویر خراب ہونے کے مسئلے کے خاتمے کے لیے اس فون کے الٹرا وائڈ اینگل کیمرے میں ’فری فارم لینز‘ نصف ہے۔

ہواوے کے نئے سمارٹ فون میں ایک جدید فیچر متعارف کرایا گیا ہے جس کی مدد سے فون کی سکرین اس وقت آن ہو جاتی ہے جب اسے معلوم ہو جاتا ہے کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس سے بیٹری کے مسائل کم ہو جائیں گے۔

ایپس کی کمی

ہواوے کا کہنا ہے کہ کیرن 9000 چِپ میں فائیو جی نصب ہے اور اس کی بیٹری دوسرے فونز سے زیادہ لمبے عرصے تک چل سکتی ہے۔

کمپنی کے مطابق سام سنگ نوٹ 20 الٹرا پلس کی بڑی بیٹری کے مقابلے میٹ 40 پرو کی بیٹری 25 فیصد زیادہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پروسیسنگ کی زیادہ قوت ہونے سے اس فون کے دو کیمروں سے ایک ساتھ 240 فریمز فی سیکنڈ میں سلوموشن ویڈیو بنائی جا سکے گی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ان چپس کی مدد سے بہتر انداز میں گیمز کھیلی جا سکیں گی اور اس میں گرافکس کے علاوہ لائٹنگ بھی بہتر ہے۔

تاہم اس فون میں کال آف ڈیوٹی موبائل سمیت کئی ایپس چل نہیں سکیں گی کیونکہ یہ گوگل پلے سٹور پر موجود ہیں اور صرف وہ فون ان تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جنھیں گوگل کی سروسز استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ کچھ دیگر خامیوں میں ایک یہ ہے کہ صارف کئی ایپس میں خریداری نہیں کر سکیں گے۔

تاہم ہواوے کی رسائی پلے سٹور پر نہ ہونے کے باوجود اس کی اپنی پیٹل ایپ گیلری سے یہ ایپس انسٹال کی جا سکتی ہیں۔ مگر کچھ ایپس وہاں بھی موجود نہیں ہوتیں۔

ای بے، ٹیسکو اور دوسری برطانوی گروسری ایپس ہواوے کے فون پر انسٹال نہیں ہو پاتیں۔ سکائی نیوز ایپ بھی ہواوے کے فونز کے لیے دستیاب نہیں لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس پر کام کر رہے ہیں۔

کمپنی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سیاست کی وجہ سے ہواوے ایسی صورتحال سے دوچار ہے کہ اسے اب گوگل پر اپنا انحصار ختم کرنا پڑ رہا ہے اور صارفین کو متبادل دینے پڑ رہے ہیں۔‘

’ہواوے نے جو کچھ اپنی ایپ گیلری کے ساتھ کیا ہے اس میں مزید گنجائش موجود ہے لیکن یہ قابل تعریف ہے۔‘

اگر کوئی ایپ دستیاب نہیں تو صارفین اسے ہواوے کی ’وش لسٹ‘ میں ڈال سکتے ہیں تاکہ اس پر جلد از جلد کام شروع ہو سکے۔

لیکن ماہرین نے سوال کیا ہے کہ آیا صارفین کی اکثریت موجودہ حالات میں خوش رہ سکے گی۔

ٹیکنالوجی ماہر بین ووڈ کا کہنا ہے کہ ہواوے کے فون میں کیمرے کا ڈیزائن اور چِپ کی کارکردگی متاثرکُن ہے اور ایپ گیلری سے متعلق کمپنی کی بہترین کوششوں کے باوجود کافی خامیاں رہ گئی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ صارفین کو پیٹل سرچ پر یہ ایپس ڈھونڈنے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ یہ ہواوے کے شوقین کے لیے تو ٹھیک ہے لیکن عام لوگوں کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہے۔