آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سونی: واک مین اور ٹی وی بنانے والی ٹیکنالوجی کمپنی کی جانب سے پہلی الیکٹرک کار کا اعلان
ہم سب سونی کارپوریشن یا سونی کو ایک ایسی جاپانی الیکٹرانکس کی کمپنی کے طور پر جانتے ہیں جو تفریح کے لیے ویڈیو گیمز میں ’پلے سٹیشن‘، کیمرہ اور موبائل فونز جیسی ان گنت چیزیں بنانے کے لیے مشہور ہے۔ لیکن اب اس جانی مانی ٹیکنالوجی کمپنی نے اپنی ایک الیکٹرک کار کا بھی اعلان کردیا ہے۔
رواں ماہ امریکہ کے شہر لاس وگاس میں سالانہ ٹیکنالوجی کی تقریب سی ای ایس کے دوران سونی نے شرکا کو اس وقت حیران کر دیا جب انھوں نے ویژن ایس نامی اپنی الیکٹرک گاڑی کی رونمائی کی۔
یہ ایک کانسیپٹ کار ہے جن سے مراد ایسی گاڑیاں ہیں جن کی مدد سے کمپنیاں مستقبل میں آنے والی ٹیکنالوجی کا تجربہ کرتی ہیں۔
سونی نے اس گاڑی کو ایک نمونے کے طور پر دکھایا۔ اس کی مدد سے کمپنی نے اپنے ٹیکنالوجی کے پراڈکٹ دکھائے جن میں ان کے سینسر اور تفریح کا سامان جیسے میوزک سسٹم نصب کیے گئے تھے۔
اس گاڑی کی ایک غیر معمولی بات یہ ہے کہ اس کے ڈیش بورڈ پر ایک وسیع سکرین لگی ہوئی ہے جس میں کمپنی کے مطابق ’ڈرائیونگ اور تفریح سے متعلق معلومات موجود ہوں گی۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم سونی نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی کہ آیا مستقبل میں وہ یہ گاڑی لوگوں کو فروخت کریں گے یا نہیں۔
سونی کے چیف ایگزیکٹو کینی چیرو یوشیدا نے اس موقع پر کہا: ’ہم نقل و حمل کے مستقبل میں اپنی کوششوں کو بڑھا رہے ہیں۔‘
ٹیکنالوجی کی دنیا پر نظر رکھنے والے باب او ڈونیل بھی اس تقریب میں موجود تھے۔ وہ کہتے ہیں: ’سچ یہ ہے کہ یہ کافی حیران کن تھا۔‘
’اس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ کمپنی خود کو اس طرح بدل رہی ہے۔‘
اس الیکٹرک گاڑی کی مختلف خصوصیات میں یہ بھی شامل ہے کہ یہ اندر بیٹھے مسافروں کا علم رکھتی ہے اور انھیں پہچان سکتی ہے۔ اس طریقے سے لوگوں کو تفریح کے لیے میوزک یا ویڈیو سسٹم میں تبدیلیاں کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔
ویژن ایس گاڑی میں کل 33 سینسر موجود ہیں۔ خیال ہے کہ اس جاپانی کمپنی نے تصاویر سے متعلق ایسے اچھے سینسر بنا لیے ہیں جن سے گاڑی کے آگے سڑک کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
او ڈونیل نے کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مستقبل میں گاڑی چلانے میں مشین کی مزید مدد مل سکتی ہے۔ اس میں کمپیوٹر کی مدد سے گاڑی چلانے والے کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ بریک کب لگانی ہے یا سٹیئرنگ وہیل کو قابو میں کیسے رکھنا ہے۔
لیکن اس کے باوجود زیادہ تر فیصلے گاڑی چلانے والوں کو ہی کرنے ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا: ’اسسٹڈ ڈرائیونگ (یا گاڑی چلانے میں مشین کی مدد) کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔ درحقیقت کئی حالات میں یہ ڈرائیور کے بغیر گاڑی چلانے کے طریقے سے زیادہ بہتر رہے گا۔‘
اواتار کار
سی ای ایس کی تقریب کے دوران مرسیڈیز بینز کی جانب سے اپنی ایک گاڑی کا کانسیپٹ بھی پیش کیا گیا جو افسانوی فلم اواتار سے متاثر ہے۔ اس گاڑی میں صلاحیت ہے کہ یہ اپنی شکل تبدیل کر سکتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کو ویژن اے وی ٹی آر کا نام دیا گیا ہے۔
گاڑی میں سٹیئرنگ وہیل یا انجن نہیں ہے لیکن اس کا فرش لکڑی کا ہے، دروازوں کے آر پار دیکھا جا سکتا ہے اور گاڑی کی معلومات اور تفریح کے لیے ایک سسٹم نصب کیا گیا ہے۔
اواتار فلم کے ہدایتکار جیمز کیمرون اس گاڑی کی رونمائی کے موقع پر مرسیڈیز بینز کے چیئرمین اولا کیلینس کے ساتھ سٹیج پر موجود تھے۔