آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹائم میگزین کی پرسن آف دی ایئر2019: صدر ٹرمپ کا گریٹا تھنبرگ کو چِل کرنے کا مشورہ
ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی سویڈن کی 16 سالہ طالب علم گریٹا تھنبرگ کو امریکا کے مشہور 'ٹائم میگزین' کی جانب سے سال 2019 کی شخصیت یعنی 'پرسن اف دی ایئر' قرار دے دیا۔
اس کے ساتھ ہی گریٹا تھنبرگ کو تاریخ کی سب سے کم عمر ترین ٹائمز میگزین پرسن اف دی ایئر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہوگیا ہے۔
جہاں تیزی سے رونما ہوتی محولیاتی تبدیلی پر فکرمند افراد نے اس کا خیر مقدم کیا وہیں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ 'ٹائم میگزین' کے اس اعلان سے کچھ زیادہ خوش دکھائی نہیں دیے اور اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’یہ مضحکہ خیز ہے! گریٹا تھنبرگ کو اپنے غصے پر قابو پانے کے مسئلہ پر کام کرنا چاہیے۔ اور پھر اسے اپنے دوستوں کے ساتھ کوئی اچھی پرانے زمانے کی فلم دیکھے۔ چِل گریٹا چِل۔‘
لیکن گریٹا تھنبرگ بھی جواب دینے میں پیچھے نہیں رہیں۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپنا نیا تعارف لکھا کہ ’ایک نو عمر جو اپنے غصے پر قابو پانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اور فی الحال چِل کر رہی ہوں اور اپنے دوستوں کے ساتھ پرانے زمانے کی فلم دیکھ رہی ہوں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ماحولیاتی تحفظ کی کم عمر کارکن گریٹا تھونبرگ کے درمیان یہ سوشل میڈیا پر نوک جھونک پہلی بار نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل رواں سال ستمبر میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر گریٹا تھنبرگ نے ایک جذبات سے بھرپور تقریر کی اور عالمی رہنماؤں کو بار بار یہ احساس دلایا کہ اگر ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات نہ کیے گئے اور بڑے پیمانے پر قانون سازی نہ کی گئی تو نتائج تباہ کن ثابت ہوں گے۔
اس تقریر پر رد عمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے طنزاً لکھا کہ ’یہ ایک بہت خوش لڑکی لگتی ہے جو ایک روشن اور زبردست مستقبل کی منتظر ہے۔ دیکھ کر اچھا لگا۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ٹویٹ کا جواب بھی گریٹا تھنبرگ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپنے تعارف کو تبدیل کرتے ہوئے دیا اور لکھا ’ایک بہت خوش لڑکی لگتی ہے جو ایک روشن اور زبردست مستقبل کی منتظر ہے۔‘
امریکی صدر کی تنقید کا جواب اس منفرد انداز میں دینے کو متعدد ٹوئٹر صارفین نے سراہا۔
امریکی صحافی سولم انڈریوسن کا کہنا تھا کہ نہ جانے یہ عمررسیدہ کب جانیں گے کہ وہ انٹرنیٹ اور ان بچوں کی لیگ سے بالکل باہر ہیں۔