چترال: ’زندگی میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ جون کے مہینے میں برفباری ہوئی ہو‘

،تصویر کا ذریعہHabib ul islam
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں جون کا مہینہ شدید گرمی، حبس اور لو یعنی گرم ہوا کا موسم سمجھا جاتا ہے لیکن شاید حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کے بعض علاقوں میں جون کے مہینے میں برف باری ہوئی ہے۔
یہ برفباری تحصیل مستوج میں لوٹ اویر، کھت اور دیگر قریبی علاقوں میں گزشتہ دو روز میں ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق دو سے چار انچ تک برف پڑی ہے ۔
اس علاقے میں محکمہ موسمیات کی کوئی آبزرویٹری نہیں ہے جس وجہ سے برف باری کی صحیح جانچ نہیں کی جا سکی۔
یہ بھی پڑھیے
گرمی میں برف پڑنے سے موسم بہتر ہوگیا ہے اور کم سے کم درجہ حرارت بھی گر گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہHabib ul islam
چترال میں محکمہ موسمیات کے عہدیدار منظور نے بتایا ہے کہ برف اپر چترال میں پڑی ہے جہاں اطلاعات کے مطابق درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے جبکہ ادھر چترال شہر میں بھی موسم بہتر ہوا ہے جہاں کم سے کم درجہ حرارت 13 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہHabib ul islam
انھوں نے کہا کہ جون کے مہینے میں درجہ حرارت میں یہ غیر معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق جون کے مہینے میں اچانک برف باری سے فصلوں، باغات اور مال مویشیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

،تصویر کا ذریعہHabib ul islam
مستوچ کے تحصیل نائب ناظم فخرالدین نے اپر چترال سے بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں آبادی کا انحصار گرمیوں میں فصلوں اور میوہ جات کی کمائی سے ہوتا ہے اور اس مرتبہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں خوبانی، ناشپاتی اور سیب کے باغات کے علاوہ گندم، اور جو کی فصل ہوتی ہے جبکہ سبزیوں میں آلو اور مٹر وافر مقدار میں ہوتے ہیں۔برفباری سے درختوں اور فصلوں کے پتے گر گئے ہیں اور پھل ضائع ہوگیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہHabib ul islam
ان کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ جون کے مہینے میں برفباری ہوئی ہو۔
اپر چترال کا علاقہ مستوج پہاڑی سلسلہ ہے اور سردیوں میں یہاں برف پڑتی ہے جبکہ گرمیوں میں لوگ مال مویشی یہاں لاتے ہیں۔ اس موسم میں چارہ بھی اس علاقے میں ہوتا ہے جو پھر سارا سال ان کے جانوروں کے کام آتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہHabib ul islam
ان کا کہنا تھا کہ لوٹ اویر کا علاقہ موسم گرما کی چراگاہ ہے اور حالیہ بارشوں سے بیل اور دیگر چھوٹے جانور ہلاک ہوئے ہیں جن کی تعداد سیکڑوں میں بتائی جاتی ہے۔
تصاویر بشکریہ حبیب الاسلام۔










