تتلی کے جسم کا درجہ حرارت کیسے معلوم کیا جائے؟

برطانیہ میں سائنسدانوں نے تتلیوں کے جسم کا درجہ حرارت ریکارڈ کیا ہے۔ ایسا اس لیے نہیں کیا گیا کہ تتلوں کو بخار ہو گیا تھا۔

تتلیوں کے جسم کا درجہ حرارت معلوم کرنے کا خیال کیمرج یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کا تھا جو یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ مختلف جانور کس طرح اپنے جسم کا درجہ حرارت بڑھا یا گھٹا سکتے ہیں۔

تحقیق کاروں کو امید ہے کہ تتلیوں پر ہونے والی تحقیق کے نتائج حشرارت الارض کو ماحولیاتی حدت سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تتلیوں کا درجہ حرارت کیسے لیا جا سکتا ہے

تتلیاں بہت نازک ہوتی ہیں لہذا ان کے جسم کا درجہ حرارت معلوم کرنے کے لیے سائنسدانوں کو بہت ہی باریک سا آلہ استعمال کرنا پڑا۔

اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ نازک تتلیوں کا درجہ حرارت ریکارڈ کرنے کی کوشش میں ان کو نقصان نہ پہنچایا جائے، سائنسدانوں نے ایک انتہائی باریک قسم کا تھرمامیٹر تیار کیا جس کا حجم ایک چوتھائی ملی میٹرتھا۔

یہ بھی پڑھیئے

ماہرین تتلیوں کو ایک جال میں لا کر اس باریک آلے سے ان کے جسم کو چھوتے جس سے درجہ حرارت معلوم ہو جاتا۔

تحقیق کار صرف پانچ منٹ میں تتلیوں کا درجہ حرارت معلوم کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ اسی عمل کے دوران انھیں یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ تتلی نر ہے یا مادہ اور ان کے پروں کی صورتحال کیسی ہے۔

تحقیق کار دو ہزار سے زیادہ تتلیوں کے جسم کا درجہ حرارت معلوم کرنے میں کامیاب رہے اور ان میں سے بہت سی مختلف اقسام تھیں۔

ایسا کیوں کیا گیا؟

تتلیوں کے جسم کا درجہ حرارت معلوم کرنے کی وجہ تتلیوں کو عالمی حدت کے خطرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش ہے۔ تتلیوں کی مختلف اقسام کے گرمی سے نمٹنے کے مختلف انداز ہیں۔

تتلیوں کی کچھ اقسام سرد موسم میں اپنے جسم کو باآسانی حرارت دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں جبکہ بعض گرم موسم میں اپنے جسم کی حرارت کو کم کرلیتی ہیں۔

کیمبرج یونیورسٹی ٹیم کی تحقیقاتی ٹیم کے لیڈر ڈاکٹر اینڈریو بلاڈن کتہے ہیں:’ ایسی تتلیاں جو اپنے جسم کے درجہ حرارت کو بڑھانےمیں مہارت رکھتی ہیں، وہ ایک سرد دن میں الصبح سے اپنے روزہ مرہ کے معمولات، جس میں بچوں کو خوراک مہیا کرنا، اپنےعلاقےکا تحفظ اور جماع کرنے میں مشغول ہو جاتی ہیں۔

ایسی تتلیاں جو اپنے جسم کے حرارت کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ان کے ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہیں۔