ایک آدمی کو عام حالات میں کتنی خارش ہوتی ہے؟

خارش یا کھجلی سے آپ سبھی واقف ہوں گے کیونکہ یہ ہر کسی کو ہوتی ہے لیکن کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ آخر یہ ہوتی کیوں ہے۔

یہ انسانی سائنس کا ایسا پہلو ہے جس کے متعلق شاید سب سے کم توجہ دی گئی ہے۔

آئے ہم خارش یا کھجلی کے پس پشت رونما ہونے والی دلچسپ حقائق سے آپ کو رو برو کراتے ہیں جس سے یہ سمجھنا آسان ہوگا کہ آخر یہ خارش ہوتی کیوں ہے۔

عام طور پر ایک شخص کو ایک دن میں تقریباً 97 بار خارش ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ میں قائم لیورپول یونیورسٹی کے پروفیسر فرانسس مکلیون نے بی بی سی ریڈیو 4 کو بتایا کہ 'مچھر یا دیگر کیڑے مکوڑے اور پودے انسانی جلد پر ٹاکسن یعنی حیوانی یا نباتاتی زہر چھوڑتے ہیں۔

اس زہریلے مادے کے جواب میں انسانی جسم کے مدافعتی نظام سے ہسٹیمن کا اخراج ہوتا ہے اور اسی کے سبب اعصاب کی جانب سے دماغ کو خارش کا سگنل ملتا ہے اور ہم خارش کرنے لگتے ہیں۔‘

خارش کے لیے مختلف عضلات اور نسیج ذمہ دار ہے

سنہ 1997 میں خارش کے متعلق اور اس کی سائنس کی سمت میں ایک بڑی پیش رفت ہوئی۔ اس سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا جس طرح چوٹ لگنے سے درد ہوتا ہے اسی طرز پر خارش بھی ہوتی ہے اور ان کا پیٹرن ایک ہی ہے۔

لیکن سنہ 1997 میں یہ پتہ چلا کہ خارش کے معاملے میں مختلف اعصاب اور ٹشوز کام کرتے ہیں۔

سینٹر آف دی سٹڈی آف اِچ کے سائنسدان براین نے ایک انوکھی تحقیق کی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ خارش کسی وبائی بیماری جیسی چیز ہے۔

یعنی اگر آپ کے سامنے بیٹھا شخص خارش کرتا ہے تو آپ بھی خارش کرنے لگتے ہیں۔ اس قسم کی خارش کے لیے دماغ کا سپر اکزمیٹک نیوکلیس حصہ ذمہ دار ہوتا ہے۔

خارش سے راحت کیوں ملتی ہے؟

خارش کرنے کے بعد ہمیں تسکین ہوتی ہے۔ اس راحت کے احساس کے لیے ہمارے دماغ سے سیروٹونین نامی کیمیائي مادے کا اخراج ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ نخنوں پر خارش سے راحت کا احساس ہوتا ہے۔ بہر حال خارش کرنے سے آرام محسوس کیوں ہوتا ہے اس کے بارے میں ابھی تک سائنسدانوں کو کوئی قطعی جواب نہیں مل سکا ہے۔

خارش کے ساتھ ایک عجیب بات یہ بھی ہے کہ آپ جس قدر خارش کریں گے یا کھجلائیں گے آپ کو اسی قدر زیادہ خارش ہوگی۔