چین میں جانور کے قدیم ترین قدموں کے نشان دریافت

،تصویر کا ذریعہAFP
جنوبی چین میں کسی بھی جانور کے پاؤں کا قدیم ترین نشان دریافت ہوا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ نشان ساڑھے چوون کروڑ سال پرانا ہے تاہم یہ کس جانور کا ہے، اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
اس فوصل (آثارِ قدیمہ) میں دو قدموں کی قطار کے نشان دیکھے جا سکتے ہیں اور کسی بھی ٹانگوں والے جانور کا یہ قدیم ترین ریکارڈ ہے۔
یہ تحقیق ایک چینی ٹیم نے کی ہے اور سائنس ایڈوانسز نامی جریدے میں شائع کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
محققین کو اس بات کا حتمی طور پر پتا نہیں ہے کہ کیا اس جانور کی دو ٹانگیں تھیں یا اس سے زیادہ تاہم ان کا خیال ہے کہ اس بات کا امکان ہی زیادہ ہے کہ یہ نشان کسی ’بائی لیٹریئن‘ جانور کے ہیں۔
’بائی لیٹریئن‘ جانوروں کی وہ قسم ہے جن کے بیرونی اعضا جوڑیوں میں ہوتے ہیں اور یہی گروپ آج دنیا بھر میں مختلف ذیلی اقسام کی شکل میں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قدموں کے نشانات جنوبی چین میں یانگزتی جورج کے علاقے میں دریافت کیے گئے ہیں۔ جن پتھروں میں یہ نشان ملے ہیں وہ 551 ملین سے 541 ملین سال پرانے ہیں۔
اس تحقیق کے شریک مصنف ژی چن نے اے ایف پی کو بتایا کہ ماضی میں دریافت کیے گئے فوصلز 530 سے 540 ملین سال پرانے تھے۔ یہ والے فوصلز تقریباً 10 ملین سال اور زیادہ پرانے ہیں۔







