’33 کروڑ ٹوئٹر صارفین اپنے پاس ورڈز تبدیل کریں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے اپنے اندرونی نظام میں خرابی سامنے آنے کے بعد 33 کروڑ صارفین کو اپنے پاس ورڈز تبدیل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ ہدایت ایک اندرونی نظام میں خرابی کی بعد کی گئی ہے۔
ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ اندرونی تحقیقات سے پاس ورڈز کے چوری یا غلط استعمال کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
تاہم اس نے پھر بھی صارفین کو ’حفظ ماتقدم کے طور پر‘ پاس ورڈز تبدیل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ٹوئٹر نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے پاس ورڈز متاثر ہوئے ہیں۔
یہ خیال ہے کہ یہ تعداد ’اچھی خاصی‘ ہے اور وہ ’کئی ماہ سے نشانے پر تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بارے میں معلومات رکھنے والے ایک فرد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ٹوئٹر نے اس ’بگ‘ کے بارے چند ہفتے پہلے کھوج لگایا تھا اور اس سے حوالے سے ریگولیٹرز کو مطلع کیا گیا۔
ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹیو جیک ڈورسی نے بھی اس بارے میں ٹویٹ کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ٹوئٹر کے بلاگ کے مطابق یہ خرابی اس کے ’ہیشنگ‘ کے استعمال سے متعلق تھی، جو پاس ورڈز کو پوشیدہ رکھتی ہے جب صارفین اپنا پاس ورڈ لکھتے ہیں تو وہ اسے اعداد اور حروف میں تبدیل کر دیتا ہے۔
بگ کی وجہ سے پاس ورڈز ہیشنگ کا عمل مکمل ہونے سے قبل ایک اندرونی کمپیوٹر لاگ پر جمع ہوئے تھے۔
ٹوئٹر نے اپنے بلاگ پر لکھا کہ ’ہم معذرت خواہ ہیں کہ ایسا ہوا۔‘
پاس ورڈز تبدیل کرنے کے علاوہ ٹوئٹرز نے ہیکنگ سے بچنے کے لیے دوہری تصدیق کا عمل استعمال کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
ٹوئٹر کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر پراگ اگروال کا اس سے قبل کہنا تھا کہ کمپنی کو یہ معلومات فراہم کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن اس کا ماننا تھا کہ ’اپنی غلطی کو ٹھیک کرنے سے پہلے ایسا کرنا ایک صحیح عمل ہے۔‘








