نئی تحقیق: ورزش کے دماغی اثرات اگلی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سائنس دانوں نے کہا ہے کہ جسمانی اور ذہنی ورزش نہ صرف ہمارے دماغ کے لیے بہت اچھی ہے بلکہ اس کے مثبت اثرات بچوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
چوہوں پر کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ ورزش سے حاصل ہونے والے فوائد ڈی این اے کے ذریعے اگلی نسل تک منتقل ہو گئے۔
مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا اثرات انسانوں میں بھی قابلِ عمل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
جرمنی میں کی جانے والی یہ تحقیق جریدے سیل رپورٹس میں شائع ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 50 برس سے اوپر کی عمر والے لوگوں میں ورزش کرنے سے اور ذہنی آزمائش کے کھیلوں اور مشقوں میں حصہ لینے سے ڈیمینشیا اور ایلزہائمرز جیسی بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
جرمن سینٹر فار نیورو ڈیجنریٹیو ڈیزیزز (ڈی زیڈ این ای) کے سائنس دانوں نے چوہوں کو ایسا ماحول دیا جس میں انھیں ورزش کے مواقع حاصل تھے، تو معلوم ہوا کہ ان کے بچوں کو بھی اس کا فائدہ پہنچا۔
ان چوہوں کے بچوں پر جب تجربات کیے تو پتہ چلا کہ دوسرے چوہوں کے مقابلے پر ان میں سیکھنے کی صلاحیت زیادہ تھی۔
اس کے علاوہ ان کے اعصاب میں زیادہ لچک تھی (synaptic plasticity)۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اعصاب کتنی آسانی سے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ یہ چیز سیکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
سائنس دانوں نے معلوم کیا کہ یہ اثرات آر این اے مالیکیول کے ذریعے سپرم کے ساتھ منتقل ہوتے ہیں۔
ڈی زیڈ این ای کے پروفیسر آندرے فشر نے بتایا: 'ممکنہ طور پر (یہ مالیکیول) دماغی خلیوں کے کنکشن کو بہتر بناتے ہیں۔ اس سے بچے کو دماغی فائدہ پہنچتا ہے۔'
برطانیہ کے گریٹ اورمنڈ سٹریٹ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے پروفیسر مارکس پیمبری نے کہا کہ یہ تحقیق یہ معلوم کرنے میں اہم سنگِ میل ہے کہ کسی فرد کی ذہانت میں جینیاتی وراثت اور پیدائش کے بعد تربیت کے علاوہ کیا چیز کردار ادا کرتی ہے۔'










