خوش رہنے کے پانچ طریقے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی ییل یونیورسٹی میں علم نفسیات اور علم ادراک کی پروفیسر لوری سینٹوس کا کہنا ہے کہ سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ 'خوش رہنے کے لیے دانستہ کوشش کی ضرورت ہے۔'
پروفیسر سینٹوس نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ آسان نہیں اور اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔'
وہ یہ جانتی ہیں کیونکہ وہ علم نفسیات اور بہتر زندگی کی تعلیم دیتی ہیں۔
ییل یونیورسٹی کی 316 سالہ تاریخ میں ان کی کلاس سب سے زیادہ مقبول ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ان کے پاس 1200 طلبہ ہیں اور انھوں نے حال ہی میں یونیورسٹی کے کسی کورس میں داخلے کا ریکارڈ توڑا ہے۔
ان کا کورس مثبت علم نفسیات کے اصول پر مبنی ہے۔ یہ علم نفسیات کی وہ شاخ ہے جس میں خوشی اور عادات و اطوار میں تبدیلی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن آپ ان تمام اصولوں کو روز مرہ کی زندگی میں کیسے عملی جامہ پہنائیں گے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پروفیسر سینٹوس کہتی ہیں کہ 'خوش رہنا یونہی نہیں آتا ہے اس کے لیے آپ کو مشق کرنی ہوتی ہے' ٹھیک ویسے ہی جیسے موسیقار اور ایتھلیٹ مسلسل بہتر کرنے اور کامیاب ہونے کے لیے ریاض اور مشق کرتے ہیں۔
ہفتے میں دو دن پروفیسر سینٹوس اپنے طلبہ کو خوش رہنے کے بارے میں تعلیم دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
وہ ان سے زیادہ خوش رہنے اور صحت مند زندگی کے متعلق اپنی ذاتی ترقی کے پروجیکٹ 'ہیک یو' سیلف' کی ترغیب دیتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہYale University OPAC
اگر آپ ییل نہیں جا سکتے اور خود کو خوش رکھنا چاہتے ہیں تو کیا کریں؟
ذیل میں پروفیسر سینٹوس کے خوش رہنے کے چند نکات پیش کیے جا رہے ہیں:
1. شکر اور احسان مندی کی ایک فہرست بنائیں
پورے ایک ہفتے تک ہر رات پروفیسر سینٹوس اپنے سٹوڈنٹس کو ان چیزوں کو لکھنے کے لیے کہتی ہیں جن کے لیے وہ شکر گزار ہیں۔
یہی ان کی شکر اور احسان مندی کی فہرست ہوتی ہے۔
پروفیسر سینٹوس کہتی ہیں: 'یہ بظاہر معمولی بات نظر آتی ہے لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ جو طلبہ پابندی سے اس کی مشق کرتے ہیں وہ زیادہ خوش رہتے ہیں۔'
2. زیادہ اور بہتر طریقے سے نیند لیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سینٹوس کے مطابق اس آسان مشق پر فتح پانا سب سے مشکل ہے۔
اس میں ایک ہفتے تک رات میں آٹھ گھنٹے سونے کا چیلنج ہوتا ہے۔
پروفیسر سینٹوس کہتی ہیں کہ 'یہ عجیب لگ سکتا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ زیادہ اور اچھی نیند سے آپ کے ڈپریشن میں جانے کے خطرات کم ہوتے ہیں اور آپ میں مثبت رویہ پیدا ہوتا ہے۔'
3. مراقبہ
آپ کو ہر دن دس منٹ تک استغراق کے عالم میں رہنا ہے۔
پروفیسر سینٹوس بتاتی ہیں کہ ایک طالب علم کے طور پر مراقبے میں جانے سے انھیں بہتر محسوس ہوتا تھا۔
اب وہ پروفیسر ہیں اور وہ اپنے سٹوڈنٹس کو مراقبے میں جانے یا پوری توجہ سے دوسرے کام کرنے کی ترغیب دیتی ہیں جس سے آپ کو زیادہ خوش رہنے میں مدد ملتی ہے۔
4. زیادہ وقت اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ گزاریں
پروفیسر سینٹوس کہتی ہیں کہ تازہ تحقیق میں واضح طور پر پتہ چلا ہے کہ اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ اچھا وقت گزارنے سے آپ زیادہ خوش رہتے ہیں۔
صحت مند آپسی رشتہ اور سماجی رابطہ جس میں آپ لوگوں سے بالمشافہ ملتے ہیں ان سے آپ کی فلاح و بہبود میں واضح بہتری آتی ہے۔
پروفیسر سینٹوس کا کہنا ہے کہ 'اس میں آپ کا کچھ جاتا نہیں بس آپ کو اس بات سے باخبر رہنا ہے کہ آپ کس طرح لوگوں کے ساتھ اپنا وقت گزار رہے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وقت کا ادراک آپ کی خوشی کے لیے بہت اہم ہے۔
'ہم اکثر دولت کو پیسے میں گنتے ہیں' لیکن پروفیسر سینٹوس کا کہنا ہے کہ 'تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ دولت کا اس بات سے قریبی تعلق ہے کہ ہمارے پاس کتنا وقت ہے۔'
5. سوشل نٹورک میں کمی اور اصل رابطے میں اضافہ
پروفیسر سینٹوس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والے خوشی کے جھوٹے احساس میں بہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا کہنا ہے کہ تازہ تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ جو لوگ انسٹاگرام جیسے سوشل نیٹورک کا استعمال کرتے ہیں وہ ان لوگوں سے کم خوش رہتے ہیں جو ان کا استعمال نہیں کرتے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تو یہ ہیں زیادہ خوش رہنے کی چند تراکیب۔
اگر آپ واقعی خوش رہنا چاہتے ہیں تو زیادہ شکر گزار بنیے، اپنے دوست اور رشتہ داروں سے ملتے رہیے، دن بھر میں تھوڑی دیر کے لیے ذہن کو خالی کر دیجیے، سوشل میڈیا سے دور رہیے اور زیادہ نیند لیجیے۔
ییل یونیورسٹی کے طلبہ پر یہ کارگر ثابت ہوا ہے آپ پر بھی کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔









