آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین میں آن لائن ایپ کی ہزاروں چھتریاں غائب
چین میں صارفین کو چھتریاں کرائے پر دینے کے لیے متعارف کروائی جانے والی ایک ایپ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کی ہزاروں چھتریاں غائب ہو گئی ہیں۔
’شیئرنگ ای امبریلا‘ نے شنگھائی سمیت چین کے 11 شہروں میں تین لاکھ چھتریاں کرائے کے لیے مہیا کی تھیں۔
صارفین اپنے سمارٹ فون پر موجود کوڈ کے ذریعے 19 یان یعنی تقریباً دو ڈالر کی ادائیگی کے بعد اسے حاصل کر پاتے تھے۔
ہر آدھے گھنٹے میں مزید نصف یان بھی صارف کے اکاؤنٹ سے کاٹے جاتے ہیں تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس اکاؤنٹ میں پیسے ہوں۔
ہر چھتری کی قیمت 60 یان ہے۔ تاہم یہ معلوم ہوا ہے کہ تین کروڑ نئی چھتریاں اس سکیم میں شامل کی جائیں گی۔
اپریل میں ابتداً عوامی مقامات جیسے کہ بس سٹینڈ اور ریلوے سٹیشنز کے گرد ان چھتریوں کی دستیابی کی سہولت مہیا کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک چینی ویب سائٹ ’دی پیپر‘ کو دیے گئے انٹرویو میں اس فرم کے بانی زہاؤ شوپنگ نے کہا کہ ممکنہ طور پر لوگ یہ چھتریاں اپنے گھر لے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ شیئرنگ ای امبریلا کا منصوبہ یہ ہے کہ اس میں اشتہاروں، جن میں سے زیادہ تر انہی چھتریوں پر موجود ہوتے ہیں، کے ذریعے منافع کمایا جائے۔
بی بی سی مانیٹرنگ میں شامل چینی تجزیہ کار کیرے ایلن کے مطابق ’چین میں چھتریاں بہت سستی ہوتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ چھتریاں بہت دیدہ زیب ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کوالٹی میں اچھی ہوتی ہیں۔ جو عموماً آپ کو ریلوے سٹیشنز پر ملتی ہیں، چھوٹی اور سادہ۔‘