آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کی خلائی شعبے میں بڑھتی سرمایہ کاری کی چار وجوہات
انڈیا کا ایک تاریخی دن تھا جب اس کے خلائی ادارے اسرو نے مقامی طور پر تیار کردہ 640 ٹن کے سب سے طاقتور راکٹ کی مدد سے انڈیا کا سب سے بھاری مواصلاتی مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجا۔
اس راکٹ کی لمبائی 140 فٹ ہے اور وزن تقریباً 200 ہاتھیوں جتنا یعنی 640 میٹرک ٹن ہے جبکہ خلا میں بھیجے جانے والے مواصلاتی مصنوعی سیارے کا وزن بھی 3136 کلو گرام ہے۔
خلائی ادارے اسرو نے راکٹ کی تیاری میں مقامی سطح پر تیار کردہ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا اور اس راکٹ کو خلا میں بھیجنے کی دہائیوں سے منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔
انڈیا پر اکثر خلائی منصوبوں پر بھاری رقم خرچ کرنے پر تنقید کی جاتی ہے کیونکہ اس کی ایک تہائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔
تو انڈیا کی خلائی پروگرام میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ بی بی سی تمل سروس کے شیوراما کرشنن پرامیسواران نے ان سوالات کے جواب جاننے کی کوشش کی ہے۔
خلائی پروگرام سستا ہے
انڈیا کا موقف ہے کہ اس کے حالیہ خلائی مشن پر بین الاقوامی معیار کے مطابق زیادہ خرچ نہیں آیا ہے اور اس منصوبے پر صرف پچاس لاکھ ڈالر خرچ ہوئے جبکہ اس راکٹ کی متوقع عمر 10 برس ہے جبکہ آئندہ ہر برس اس کی آپریشنل لاگت مزید کم ہو جائے گی اور اس وجہ سے انڈیا کی خلائی صعنت کا دعویٰ ہے کہ وہ بہت کم خرچ ہے۔
انڈیا تسلسل سے سائنسی تحقیق کے بجٹ میں اضافہ کر رہا ہے جس میں خاص کر خلائی تحقیق شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حقیقت میں کسی حد تک یہ اس تنقید کا جواب ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ یہ ضرورت کے مطابق سائنس کے شعبے میں سرمایہ کاری نہیں کی جا رہی ہے۔
تیزی سے فروغ پاتی صعنت
امریکہ، فرانس اور روس کے پاس اس وقت منصوعی سیاروں کو خلا میں بھیجنے کے چھ ارب ڈالر کے کاروبار کا 75 فیصد حصہ ہے اور یہ کاروبار تیزی سے منافع بخش بنتا جا رہا ہے جبکہ انڈیا امید کر رہا ہے اس میں ایک بڑا حصہ حاصل کرے۔
خلائی معیشت میں ایک کلوگرام وزن سے لے کر سینکڑوں کلوگرام ورزن کے مصنوعی سیاروں کو خلا میں بھیجنا شامل ہے۔
سٹیلائٹ انڈسٹری ایسویسی ایشن کے مطابق اربوں ڈالر کی اس صعنت میں اس وقت انڈیا کا شیئر صفر اشارہ پانچ فیصد ہے جبکہ چین کا حصہ تین فیصد ہے۔
ماضی میں انڈیا خلائی راکٹ کے شعبے میں مجبوریوں کی وجہ سے مصنوعی سیاروں کو خلا میں بھیجنے کا کاروبار حاصل نہیں کر سکا اور اس کا اپنا زیادہ تر انحصار فرانس کے ذریعے مصنوعی سیاروں کو خلا میں بھیجنے پر تھا لیکن اب یہ ماضی بن چکا ہے۔
مارکیٹ کو تبدیل کرنا
زیادہ تر موسمیاتی اور مواصلاتی مصنوعی سیاروں کا ورزن تقریباً چار ٹن کے قریب ہوتا ہے اور انھیں خلا میں بھیجنے کے لیے ایک بڑے طاقتور راکٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
انڈیا نے اپنے حالیہ لانچ کے ذریعے بین الاقوامی برادری کو ایک بااثر پیغام بھیجاہے کہ ایک کم قیمت متبادل موجود ہے۔
انڈیا کی جانب سے کچھ عرصہ پہلے ایک ساتھ مختلف سائز کے 104 مصنوعی سیاروں کو خلا میں بھیجنے سے اس کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔
سٹیلائٹ کی عالمی مارکیٹ کی مجموعی مالیت ایک سو بیس ارب ڈالر ہے جس میں مصنوعی سیاروں کی تیاری، ان کو خلا میں بھیجنا اور ان کے درمیان مواصلاتی رابطوں کو قائم کرنا شامل ہے جبکہ حالیہ برسوں میں رابطوں کے نظام کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے یہ کارباری تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کم قیمت کی وجہ سے انڈیا مصنوعی سیاروں کو خلا میں بھیجنے کی انڈسٹری کا مرکز بن سکتا ہے۔
دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنا
ناقدین کا کہنا ہے کہ انڈیا سائنس میں ترقی پر بھاری سرمایہ خرچ کر رہا ہے جبکہ ملک میں سماجی ترقی کے شعبے میں ضرورت کے مطابق سرمایہ کاری نہیں کی جا رہی۔
انڈیا میں اس وقت لاکھوں افراد کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے، بجلی کی کمی کا سامنا ہے، ٹوائلٹ کی سہولیات کا فقدان ہے اور اس کے علاوہ ریل اور سڑک کے ذریعے رابطوں کی کمی ہے لیکن حکومتوں کا کہنا ہے کہ سائنس اور ترقی پر خرچ کرنا سماجی ترقی کے تمام شعبوں میں ترقی کا راستہ ہے۔
انڈیا میں حالیہ راکٹ لانچ میں اسے امید ہے کہ ترقی پذیز ممالک کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ مغربی ممالک کی بجائے اس کی صلاحیتوں کو استعمال کریں اور تنقید سے بلاتر انڈیا اس شعبے میں مزید سرمایہ لگا رہا ہے۔ بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے اور اب اس کا منصوبہ سارہ زہرہ پر مشن بھیجنے کا ہے۔