آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دنیا کا آخری سفید گینڈا اب ڈیٹنگ ایپ پر
دنیا میں نایاب نسل کے آخری رہ جانے والے نر شمالی سفید گینڈے کا ڈیٹنگ ایپلی کیشن ٹنڈر اکاؤنٹ بنایا گیا ہے۔
یہ کینیا میں گینڈوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی جانب سے چندہ اکٹھا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
بڑھتی ہوئی عمر کے اس نایاب نسل کے نرگینڈے کے دو باقی رہ جانے والی مادہ گینڈوں کے ساتھ افزائش نسل کی کوششوں ناکام ہوگئی تھیں۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ گینڈوں کے لیے مصنوعی طریقے سے افزائش نسل یعنی ان ویٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) تکنیک تیار کرنے کے لیے ایک کروڑ ڈالر درکار ہیں۔
شمالی سفید گینڈوں کی نسل کو ختم کرنے میں غیرقانونی شکاریوں کا اہم کردار رہا ہے جو اس کے سینگ کے لیے ان کو مارتے رہے ہیں۔
آخری بچ جانے والے نر گینڈے کو 24 گھنٹے سخت حفاظتی حصار میں رکھا جاتا ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق سوڈان نامی اس گینڈے کے ٹنڈر ایپ پر بنائے گئے اکاؤنٹ میں ان کا تعارف ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ ’میری نسل کی تقدیر کا دارومدار میرے پر ہے۔ میں دباؤ میں اچھی کارکردگی دکھاتا ہوں۔ میں صرف گھاس کھاتا ہوں اور مٹی میں کھیلتا ہوں۔ کوئی مسائل نہیں ہیں۔ اگر یہ بات اہمیت رکھتی ہے تو میرا چھ فٹ قد ہے اور 5000 پاؤنڈز وزنی ہوں۔‘
گینڈوں کے تحفظ اور بچاؤ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کو امید ہے کہ سوڈان کا ٹنڈر پروفائل انھیں فرٹلائزیشن کے عمل کے لیے مطلوبہ رقم جمع کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کارکنوں کے مطابق سائنسدان سوڈان کے نطفے کو آخری دو رہ جانے والی مادہ گینڈوں 17 سالہ ستو یا 27 سالہ ناجن کے انڈوں سے تیار ہونے والے ایمبریو کو جنوبی سفید گینڈے کی نسل سے تعلق رکھنے والی مادہ میں منتقل کریں گے۔
ایک اندازے کے مطابق غیرقانونی شکاری شمالی سفید گینڈے کے سینگ 50 ہزار ڈالر فی کلو کے حساب سے فروخت کرتے ہیں جس سے ان کی مالیت سونے یا کوکین سے بھی زیادہ بن جاتی ہے۔
کارکنوں کو خدشہ ہے کہ 43 سالہ سوڈان مطلوبہ رقم جمع ہونے سے قبل ہی مر سکتا ہے یا مار دیا جاسکتا ہے۔
گینڈوں کے ماہر رچرڈ وگنے کا کہنا ہے کہ ’یہ خطرہ ہمیشہ سے موجود ہے۔ وہ بوڑھا ہے، وہ ضرور جلد مر جائے گا۔ جب تک مشرق بعید میں گینڈوں کی سینگوں کی طلب رہے گی، یہ خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔‘