ہواوے نے سام سنگ کے خلاف چین میں عدالتی جنگ جیت لی

ٹیکنالوجی کی معروف چینی کمپنی ہواوے نے اپنی حریف جنوبی کوریا کی کمپنی سام سنگ کے خلاف پیٹنٹ کی جنگ جیت لی ہے۔

کوان زو میں ایک چینی عدالت نے سام سنگ کو حکم دیا ہے کہ وہ ہواوے کو اس کی سمارٹ فون ٹیکنالوجی کو بنا اجازت کے استعمال کرنے پر ایک کروڑ 16 لاکھ ڈالر ادا کرے۔

واضح رہے کہ یہ دونوں کمپنیاں ایک دوسرے پر دیگر عدالتوں میں بھی مقدمات دائر کر چکی ہیں جو ابھی زیرسماعت ہیں۔

تاہم ہواوے کی جیت کی خوشی اس وقت پھیکی پڑ گئی جب برطانیہ میں اس کی مصنوعات کی فروخت پر پابندی کی خبر سامنے آئی۔

چینی کمپنی ہواوے نے گذشتہ سال مئی میں اپنی حریف کمپنی سام سنگ پر اپنے پیٹنٹ کی خلاف ورزی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا تھا۔

ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے اس وقت کہا تھا کہ وہ جنوبی کوریا کی اپنی حریف کمپنی کو کیلیفورنیا اور شن زن کی دو عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ہواوے نے الزام عائد کیا تھا کہ سام سنگ اپنے فونز اور ٹیبلیٹس کے تقریباً 20 ماڈلوں میں اس کی ٹیکنالوجی کا بنا اجازت استعمال کر رہا ہے۔

دوسری جانب سام سنگ نے گذشتہ جولائی میں ہواوے پر بھی مبینہ پیٹنٹ چوری کے چھ مقدمات کیے تھے اور اس کا کہنا تھا کہ ’اس نے اس سارے مسلے کو دوستانہ طور پر ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوے ہواوے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اس کیس میں ہواوے عدالتی فیصلے کو تسلیم کرتی ہے۔‘

کمپنیوں کے درمیان پیٹنٹ کی لڑائی کوئی نئی بات نہیں اور ابھی اوریکل اور گوگل امریکہ کی ایک عدالت سے اسی طرح کے ایک مقدمے کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

تاہم ایپل اور سام سنگ کی سنہ 2011 کی جنگ کے بعد سے اس طرح کے واقعے میں کمی آئی تھی کیونکہ دونوں کمپنیوں کو اپنے کام کے خفیہ طریقوں کو ظاہر کرنا پڑا تھا۔