فضائی آلودگی: قاہرہ کے سیاہ بادلوں سے نمٹنے کی کوشش

    • مصنف, مریم رزق
    • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ

مصر کے شہری تقریباً دو دہائیوں سے ہر سال آنے والی دھند کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔

قاہرہ اور دوسرے شہروں میں تقریباً دو دہائیوں سے ہر سال یہ دھند ظاہر ہو جاتی ہے۔

مصر میں اس دھند کو سیاہ بادل کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ دھند مصر اور دیگر شہروں میں سب سے پہلے سنہ 1997 میں ظاہر ہوئی تھی۔

مصر کی ماحولیات کی وزارت کے مطابق یہ دھند تیزی سے پھیلی اور اب اس کا شمار ملک کی 42 فیصد فضائی آلودگی میں ہوتا ہے۔

حکام کے مطابق ابتدا میں یہ دھند کسانوں کی جانب سے چاول کے بھوسے کو جلانے کی وجہ سے پیدا ہوئی کیونکہ ان کے پاس اس بھوسے کو اپنے کھیتوں سے ریسائیکل سینٹرز تک پہنچانے کا انتظام نہیں تھا۔

مصر میں گذشتہ کئی سالوں کے دوران متعدد بار اس سے عہدہ برآ ہونے کی کوششیں کی گئیں۔

مصر کی ماحولیات کے بارے میں آگاہی شعبے کے سربراہ عمل تاہا کا کہنا ہے کہ ان کی وزارت نے سیمنٹ کی پیداوار میں چاول کے بھوسے کو استعمال کرنے کے لیے ایک مقامی کمپنی سے معاہدہ کیا۔

مصر کی وزرات کی جانب سے بنائی جانے والی ایک ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ 17 لاکھ فیڈنز کو چالوں کے ساتھ کاشت کیا گیا تھا جس میں سے 34 ملین ٹن چاول کا بھوسہ بچ گیا تھا۔

واضح رہے کہ فیڈن کسی چیز کو ناپنے کا ایک مصری پیمانہ ہے جو 1.038 ایکڑ سے برابر ہوتا ہے۔

مصر کی وزرات کم سے کم چار ریجنز میں کوڑے کو اکھٹا کر کے اسے ری سائیکل کر کے فرٹیلائز اور بھوسے میں تبدیل کر رہی ہے۔

عمل تاہا کا کہنا ہے کہ ہم کسانوں کو یہ سکھا رہے ہیں کہ وہ کوڑے سے نمٹنے کے لیے کیسے قابل عمل حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔

مصر کی وزارت اب سیٹلائٹس کی مدد سے ان جگہوں کی نشاہدہی کر رہی ہے جہاں کسانوں نے چاول کے بھوسے کو جلایا تھا۔

مصری وزارت نے اس حوالے سے موصول ہونے والی شکایات اور اطلاعات کو مزید بہتر بتانے کے لیے واٹس ایپ، فیس بک، ویب سایٹ اور ایک ہاٹ لائن بھی قائم کی ہے۔

حکام کے مطابق جو کسان اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا اس پر پانچ ہزار سے دس ہزار مصری پاؤنڈز تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا اور بار بار کی خلاف ورزی کرنے پر اسے جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

مصر کی ایک نوجوان لڑکی جنھوں نے سنہ 2015 میں انٹرنیشنل سائنس اینڈ انجنیئرنگ فیئر میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی زرعی فضلے کے مختلف استعمال پر اپنا پروجیکٹ کر رہی ہیں۔

یاسمین مصطفی نے بی بی سی کو بتایا ’میں سیاہ بادل کے خاتمے پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے فائدہ بھی اٹھا رہی ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’مجھے یقین ہے کہ چاول کے بھوسے سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اسے جلا دیں اور یہ سب سے تیز اور سستا ترین طریقہ ہے تاہم اس میں ایک مشکل آلودہ گیس ہے چنانچہ اس کے لیے میں نے ایک طریقہ یہ ڈھونڈا ہے کہ ان گیسوں کو استعمال کر کے ان سے بائیوڈیزل، فرٹیلائزز، وٹامن ڈی اور ہائیڈروپاور کو پیدا کیا جائے۔‘

امریکی خلائی ادارے ناسا نے یاسمین مصطفی کے پروجیکٹ ’رائس سٹرا پاور‘ کو تسلیم کرتے ہوئے سنہ 2000 میں اپنے ایسٹرائیڈ بیلٹ کو ان کے نام سے موسوم کیا۔

یاسمین کا کہنا ہے کہ شروع میں ان کا منصوبہ پانی کو صاف کرنے کے لیے کم خرچ تکنیکز پر مشتمل تھا۔

انھوں نے مزید بتایا ’ہم فضلے کو 1200 ڈگری سیلسیس پر جلاتے ہیں جس کے بعد ہم پانی کو کشید کر سکتے ہیں۔‘

یاسمین کا کہنا ہے کہ تمام میٹریل جیسے کہ چاول کا بھوسہ اور رکے ہوئے پانی کو قدرتی طور پر سستا فضلہ شمار کیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ اب اس کے سائز کو چھوٹا کرنے پر کام کر رہی ہیں تاکہ کسان اسے آسانی کے ساتھ استعمال کر سکیں۔