’بلیاں بھی کتوں جیسی ذہین ہیں ہو سکتی ہیں‘

جاپان کے سائنسدانوں نے بلیوں کے مقابلے میں کتوں کے زیادہ ذہین ہونے پر سوال اٹھایا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یاداشت سے متعلق بعض خاص تجربات میں بلیاں بھی اتنی ہی بہتر رہیں جتنا کہ کتے۔ ان کے مطابق بلیاں بھی کتوں جیسی ہی ذہین ہیں۔

اس تحقیق میں 49 مقامی بلیوں کو شامل کیا گیا تھا جس سے یہ معلوم ہوا کہ بلیاں خوشگوار تجربات کو یاد رکھتی ہیں، جیسا کہ ان کا پسندیدہ کھانا۔

اس سے قبل ایسا کتوں میں دیکھا گیا تھا جسے ’ایپی سوڈک میمری‘ یا ’سلسلہ وار یاداشت‘ کہا جاتا ہے۔

دوسری جانب انسان دانستہ طور پر ان کی زندگیوں میں ہونے والے واقعات کو یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے کہ انھوں نے ناشتے میں کیا کھایا تھا، ملازمت پر ان کا پہلا دن یا خاندان میں کسی کی شادی۔

ان یاداشتوں کا تعلق انفرادی طور پر ہونے والے وقعات کے ساتھ ہوتا ہے، اس لیے یہ ہر شخص کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔

کیوٹو یونیورسٹی کی ماہر نفسیات ساہو تکیگی کا کہنا ہے کہ کتوں کے ساتھ ساتھ بلیاں بھی ماضی کے تجربات کو یاد رکھتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بھی سلسلہ وار یاداشت پائی جاتی ہے جو کہ بالکل انسانوں جیسی ہے۔

ساہو تکیگی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک دلچسپ قیاس آرائی یہ ہے کہ یہ بھی انسانوں کی طرح اپنے تجربات کی یادوں سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔‘

تحقیق میں شامل تمام 49 بلیوں پر تجربات ان کی کھانے کے برتن کو یاد رکھنے کی قابلیت پر کیے گئے۔ ان تجربات کے دوران یہ دیکھا گیا کہ آیا وہ 15 منٹ کے وقفے کے بعد یہ یاد رکھ سکتی ہیں یا نہیں کہ انھوں نے کس برتن میں موجود کھانا کھا لیا ہے اور کس برتن کو ابھی نہیں چھوا۔

سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ بلیاں کھانے کے برتن کے حوالے سے ’کیا‘ اور ’کہاں‘ جیسی معلومات کو یاد رکھتی ہیں۔

محقیقین کے مطابق بلیاں اس تجرباتی مدت سے کہیں زیادہ عرصے تک چیزوں کو یاد رکھ سکتی ہیں۔

ان کے خیال میں بلیاں ذہانت کے کئی تجربات میں کتوں کے برابر ہیں، جن میں انسانی اشاروں پر ردعمل کا اظہار کرنا، چہرے کے تاثرات اور جذبات شامل ہیں۔

ساہو تکیگی نے مزید کہا کہ ’بلیوں کو مزید سمجھنے سے ان کے اور انسانوں کے درمیان بہتر تعلق قائم کرنے میں مدد ملے گی۔‘