آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
رسولی کی تشخیص کی 200 سال بعد تصدیق
ڈاکٹروں نے دنیا کے ایک ماہر اور بااثر سرجن کی تشخیص کی 200 سال بعد تصدیق کی ہے۔
سرجن جان ہنٹر نے 1786 میں ایک مریض میں پتھر کی طرح سخت رسولی کی تشخیص کی تھی۔
رایل مارسڈین ہسپتال کے ڈاکٹروں نے مریض کے نمونوں اور مرض کے متعلق دستاویزات کا مطالعہ کیا۔ ڈاکٹر کے یہ نوٹ ان کے نام پر لندن میں قائم ایک میوزیم میں محفوظ تھے۔
تشخيص کی تصدیق کے ساتھ ساتھ کینسر پر کام کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم کا خیال ہے کہ مسٹر ہنٹر کا صدیوں پرانا نمونہ اس مرض کی ان تہوں کو کھول سکتا ہے کہ کس طرح وقت کے ساتھ مرض میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔
ڈاکٹر کرسٹینا میشیو نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ کچھ حد تک تفریح کے طور پر شروع ہوا لیکن ہم جان ہنٹر کی بصیرت دیکھ کر حیران رہ گئے۔'
ہنٹر سنہ 1776 میں کنگ جارج سوم کے سرجن مقرر ہوئے تھے اور ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنسی تعلق سے پھیلنے والی بیماریوں پر کتاب لکھنے کے سلسلے میں انھوں نے تجربے کے لیے خود کو سوزاک یا گنوریا کے مرض میں مبتلا کر لیا تھا۔
ان کے وسیع طبی کلیکشن کو رائل کالج آف سرجنز کے ہنٹریئن میوزیم میں رکھا گیا ہے جن میں ان کے دلچسپ نوٹ بھی شامل ہیں کہ کس طرح سینٹ جارج ہسپتال میں ایک شخص سنہ 1786 میں پتھر کی طرح سخت زخم کے ساتھ پہنچا تھا جو کہ اس کے دائیں زانو پر تھا۔
انھوں نے لکھا تھا: 'ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ہڈی موٹی ہو گئی ہے اور یہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔۔ جانچ پر پتہ چلا کہ یہ کوئی رسولی قسم کی چيز ہے جو زانو کی ہڈی کے نچلے حصے میں مواد کے جمع ہو جانے سے ہوا ہے اور یہ مرض ہڈی سے ہی شروع ہوا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسٹر ہنٹر نے اس شخص کی ٹانگ کاٹ دی اور وہ چار ہفتے میں ٹھیک ہونے لگا لیکن مسٹر ہنٹر کے نوٹ کے مطابق وہ دبلا ہوتا گیا اور سانس لینے میں اسے زیادہ تکلیف ہونے لگی اور وہ آپریشن کے سات ہفتے بعد مر گیا۔ پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا کہ ہڈی نما رسولی کے اثرات اس کے پھیپھڑے، دل اور پسلیوں تک پہچ گئے تھے۔
ڈاکٹر ہنٹر کی تشخیص 200 سال سے زیادہ عرصے بعد ڈاکٹر کرسٹینا میشیو کے ہاتھ لگ گئی۔ انھوں نے کہا: 'مسٹر ہنٹر کے نوٹ سے ہمیں فوراً یہ احساس ہو گيا کہ آسٹیوسارکوما یا ہڈیوں میں ہونے والی رسولی کے مرض کے بارے میں ہم اتنا ہی جانتے ہیں۔'
انھوں نے اس بارے میں اپنے ساتھی سے رجوع کیا اور دونوں نے جدید دور کی سکیننگ کے بعد صدیوں پرانی اس تشخيص کی تصدیق کی۔