محبت ننھے بچوں کی ذہنی نشوونما میں معاون

،تصویر کا ذریعہCAMBRIDGE UNIVERSITY
کیمبریج یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ بچے اس وقت زیادہ سیکھتے ہیں جب ان کے ذہن اور ان کے والدین کے درمیان مطابقت ہوتی ہے۔
ایک مطالعے سے معلوم ہوا کہ ننھے بچے نظموں اور بچوں کی طرز میں کی جانے والی گفتگو سے جلد ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ بچوں کے ذہنوں کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کے لیے انھیں تحفظ اور محبت کا احساس دلانا بہت ضروری ہے۔ اس سے ان کے دماغ کے ساتھ رابطہ زیادہ بہتر ہوتا ہے اور وہ زیادہ اچھی طرح چیزیں سیکھتے ہیں۔
یہ نتائج کیمبریج یونیورسٹی میں بچوں کے دماغوں کو سکین کیے جانے والے ایک منصوبے کے دوران سامنے آئے ہیں۔
ایک نومولود کے لیے دنیا بہت سارے نظاروں، آوازوں اور معلومات کا مجموعہ ہوتی ہے تاہم بعد میں آہستہ آہستہ چیزیں واضح ہونا شروع ہوتی ہیں۔
مطالعے کے ابتدائی نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ جب ماں اور بچے کے ذہنوں میں مطابقت نہیں ہوتی تو بچے کم سیکھتے ہیں۔ لیکن جب یہی دو دماغ مطابقت کے ساتھ رہتے ہیں تو زیادہ بہتر کام کرتے ہیں۔
اس تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر وکٹوریا لیونگ کا کہنا ہے کہ ’جب ماں کوئی بھی بات گنگنا کر کرتی ہیں تو بچے زیادہ سیکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہCAMBRIDGE UNIVERSITY
ان کے مطابق بچوں کی نظمیں ننھے بچوں کے ذہنوں کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر وکٹوریا لیونگ کا کہنا تھا ’گو کہ یہ بہت عجیب لگتا ہے لیکن چھوٹے بچے ماں کے بڑوں کی طرح بات کرنے کی نسبت اس پیار بھرے گنگناتے انداز کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔‘
’وہ اس کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں اور اسے بہتر طور پر سنتے ہیں۔ اس لیے بچے جتنا زیادہ پیار پچکار سنتے ہیں اتنا ہی وہ بہتر زبان سیکھتے ہیں۔‘
ڈاکٹر لیونگ کا کہنا ہے کہ بے شک ماں کے علاوہ اگر باپ اور خاندان کے دیگر بڑے بھی اسی طرح بچوں سے بات کریں تو بچے زیادہ سیکھیں گے۔
اس کے علاوہ ان کی ٹیم نے یہ بھی پایا کہ اگر بچوں کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کی جائے تو وہ زیادہ بہتر ردِ عمل دیتے ہیں۔ ان ماؤں نے جنہوں نے بچوں سے نظریں ملا کر بات کی اور نظمیں گائیں ان کے بچوں نے زیادہ بہتر سیکھا ان لوگںو کے بچوں سے جو یہاں وہںا دیکھتے رہے یا وقتاً فوقتا دیکھتے رہے۔








