آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آنتوں کے بعض بیکٹریا کینسر کے علاج میں مددگار
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہاضمے کے نظام میں آنتوں میں پائے جانے والے بعض بیکٹریا سے کینسر کے علاج میں مدد مل سکتی ہے۔
رسولیوں یا ٹیومرز سے لڑنے کے مدافعتی نظام کی قوت میں اضافہ کرنے والے طریقہ علاج امّیفنوتھریپیز سے بعض مریضوں میں ٹرمینل کینسر ختم ہو سکتے ہیں۔
بہرحال یونیورسٹی آف ٹیکسس میں کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن لوگوں کی آنت میں جتنے مختلف قسم کے آنت والے بیکٹیریا ہوں گے وہ ان سے زیادہ مستفید ہو سکتے ہیں۔
جبکہ کینسر ریسرچ یو کے نے کہا ہے کہ آنت کے بیکٹیریا کے بارے معلومات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔
انسانی جسم اربوں کھربوں مائیکرو اجسام کا گھر ہے اور ایک تخمینے کے مطابق ہمارے اپنے خلیے ان کے مقابلے میں اتنے کم ہیں کہ ہمارا انسانی جسم ان کا صرف دس فی صد ہے۔
اور جوں جوں ہماری مطالعے میں اضافہ ہو رہا ہے ہمیں یہ پتہ چل رہا ہے کہ یہ مائیکروبز ہمارے مدافعتی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں اور ان تجربہ خودکار مدافعتی بیماریوں اور الرجیوں کے معاملے کیا جا چکا ہے۔
امّیونوتھریپی کینسر کے علاج میں اہم اور دلچسپ پیش رفت ہے اور یہ رسولیوں یا ٹیومرز پر حملہ آور ہونے میں مدافعتی نظام میں بریک لگا کر مدد کرتے ہیں۔
تجربے کے دوران جن مریضوں پر آنت کے بیکٹیریا کے گروپ کو آزمایا گیا ان میں سے 23 مریضوں کے علاج میں ان کے اثرات دیکھے گئے جبکہ 11 مریضوں میں اس کے اثرات نہیں دیکھے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میلوما سرجن اور سائنسداں ڈاکٹر جینیفر وارگو نے بی بی سی کو بتایا کہ فضلے کے نمونوں میں ہم نے بیکٹریا کے اقسام کے تنوع کے معاملے میں دن اور رات جیسا فرق پایا۔
یہ تحقیق نیشنل کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے لیورپول میں ہونے والے کینسر کانفرنس میں پیش کی گئی اور بتایا گيا کہ جن مریضوں میں رومینوکوکس نامی بیکٹریا زیادہ مقدار میں تھے انھیں علاج میں فائدہ ہوا۔
اس میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر معدے میں بیکٹریا کے توازن کو بدل دیا جائے تو امّیونوتھیراپی کے ذریعے علاج کے موثر ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔