
صوابی ہی میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے اہلکاروں پر دو جنوری دو ہزار تیرہ کو حملہ کیا گیا جس میں چھ خواتین سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر صوابی میں ایک پولیو ٹیم پر حملے کے نتیجے میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔
گزشتہ سال کے اواخر میں پولیو کی ٹیموں پر حملوں کے بعد حکام نے فیصلہ کیا تھا کہ ہر پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کے ساتھ ایک پولیس اہلکار حفاظت کے لیے مامور کیا جائے گا۔
صوابی کے ڈی سی او سید محمد شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایک پولیو ٹیم جو پیدل گلو ڈیری کے علاقے میں پولیو کے قطرے پلا رہی تھی کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے حملہ کر کے ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار کو ہلاک کر دیا۔
ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کا نام منصف علی بتایا گیا ہے۔
صوابی ہی میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے اہلکاروں پر دو جنوری دو ہزار تیرہ کو حملہ کیا گیا جس میں چھ خواتین سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
غیر سرکاری تنظیم کے اہکاروں پر فائرنگ کا یہ واقعہ موٹر وے کے قریب انبار کے علاقے میں سروس روڈ پر پیش آیا۔
اس غیر سرکاری تنظیم کا نام سپورٹ ود ورکنگ سولوشن تھا جو اس علاقے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام کررہی ہے۔
یہ پہلا موقع تھا جب صوابی میں غیر سرکاری تنظیم پر حملہ کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ صوابی میں سکولوں پر تو حملے تو ہوتے رہے ہیں اور ان کو تباہ کیا گیا ہے۔ تاہم اس سے پہلے غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکاروں پر حملے نہیں ہوئے ہیں۔