’ہمارے بچوں کے مستقبل کا اب کیا بنے گا‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 جنوری 2013 ,‭ 19:35 GMT 00:35 PST

’ہمارے بچوں کے مستقبل کا اب کیا بنے گا ، کون انہیں پڑھانے آئے گا، ان کے دو ماہ بعد سالانہ امتحانات ہونے تھے اگر انہوں نے امتحان نہیں دیا تو ان کا ایک سال مفت میں ضائع ہوجائے گا‘۔

یہ الفاظ اُجالا کمیونٹی سینٹر صوابی میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کے تھے۔

منگل کو غیر سرکاری تنظیم ایس ڈبلیو ڈبلیو ایس یعنی سپورٹ ود ورکنگ سولوشن کے تحت چلنے والے اس کمیونٹی سینٹر کی چھ خواتین سمیت سات اہلکاروں کو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔

ُاجالا کمیونٹی سینٹر صوابی شہر سے کوئی دس کلومیٹر دور ایک مضافاتی گاؤں شیرافضل بانڈہ میں واقع ہے۔

شیرافضل بانڈہ تقریباً ستر گھرانوں پر مشتمل ہے۔گاؤں کو جاتے ہوئے ایک سنسنان اور کچے راستے سے جانا پڑتا ہے۔ مرکز کے اہلکاروں کو بھی اسی کچے راستے میں فائرنگ کر کے نشانہ بنایا گیا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ کچا راستہ پشاور اسلام آباد موٹروے سے تقریباً تین چار سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تقریباً اتنی ہی فاصلے پر موٹر وے پولیس کی چوکی بھی قائم ہے جو وہاں سے نظر بھی آتی ہے۔

ُاجالا کمیونٹی مرکز میں پانچویں جماعت تک بچوں کا ایک سکول اور چھوٹا سا طبعی مرکز قائم تھا۔

گاؤں کے قریب کوئی سرکاری سکول یا طبعی مرکز نہیں ہے اور یہاں بنیادی ضروریات کا بھی شدید فقدان پایا جاتا ہے۔

گاؤں کی زیادہ تر آبادی غیر تعلیم یافتہ اور کسانوں پر مشتمل ہے۔ ایسے میں یہ کمیونٹی سینٹر گاؤں کے باشندوں کے لیے سونے پر سہاگے کا کام کرتا تھا کیونکہ یہاں ضروری طبی سہولیات بھی میسر تھیں اور بچوں کو پڑھایا بھی جاتا تھا۔

لیکن اس قتل کے واقعے کے بعد اب بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ یہ سینٹر جلد کھلنے والا نہیں کیونکہ گاؤں میں بدستور ایک خوف کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

’این جی او‘ کا لفظ پاکستان کے شدت پسند حلقوں میں ویسے ہی متنازع سمجھا جاتا ہے اور پھر ایک ایسے سینٹر جس کے اہلکار دہشت گردی کے واقعہ میں ہلاک کیے جا چکے ہوں وہاں جلد سرگرمیاں بحال کرنا آسان کام نہیں ہوتا۔

اس واقعہ میں غیر سرکاری تنظیم کو تین طرح سے نقصان اٹھانا پڑا، ایک تو اس کے کارکن مارے گئے اور دوسرا ان کو مرکز بھی بند کرنا پڑا۔ اب ان کو نئے کارکنوں کی تلاش میں بھی مشکلات کا سامنا ہوگا کیونکہ ایسی صورتحال میں وہاں فوری طور پر کوئی نوکری کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

مرنے والوں اہلکاروں میں شیر افضل بانڈہ سے کوئی نہیں تھا بلکہ تمام کا تعلق دور دراز کے علاقوں سے تھا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ان میں اکثریت کا تعلق غریب اور متوسط طبقے سے تھا۔

ہم جب ُاجالا کمیونٹی مرکز پہنچے تو مرکزی گیٹ کے سامنے گاؤں کے مشران اور عمائدین جمع تھے اور اسی بات پر جرگہ کر رہے تھے کہ اس مرکز کو اب کیسے دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔

وہاں موجود انبار یونین کونسل کے سابق ناظم محمد سعید خان نے بتایا کہ اس مرکز میں ستر بچے زیر تعلیم تھے جن میں زیادہ تر بچے اول سے چوتھی جماعت جبکہ ایک طالبہ پانچویں جماعت میں پڑھتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے ملازمین پر حملے کے بعد یہاں کے بچوں کا مستقبل اب خطرے میں پڑگیا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ گاؤں میں اکثریت غریب کسانوں کی ہے جن کے اتنے وسائل نہیں کہ اپنے بچوں کو دور دراز کے علاقوں میں تعلیم کے لیے بھیجوا سکیں۔

گاؤں کے ایک مشر شیر افضل نے کہا کہ دو ماہ بعد بچوں نے سالانہ امتحان دینا تھے لیکن اب تو بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ان کا سال ضائع ہو جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

کمیونٹی مرکز کے سامنے گاؤں کا ایک مشترکہ حجرہ بنا ہوا ہے جہاں کئی بچے کھیل رہے تھے۔

پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ سب بچے کمیونٹی مرکز میں زیر تعلیم تھے۔ لیکن آج کل یہ بچے صبح سے لے کر شام تک یہاں کھیلتے رہتے ہیں یا کھیتوں میں کام کرتے ہیں اور اگر اس مرکز کو فوری طور پر بحال نہیں کیا گیا تو شاید یہی ان کا مستقبل بن جائے۔

تاہم دوسری طرف صوابی پولیس کے سربراہ عبد الرشید خان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مرکز کی دوبارہ بحالی کے لیے پولیس ہر قسم کی سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں گاؤں کے باشندوں کو پولیس کےساتھ بھرپور تعاون کرنا ہوگا۔ پولیس افسر نے یہ بھی کہا کہ واقعہ میں ملوث افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور اس حوالے سے کچھ گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>