
تفتیش کی ذمہ داری ایک چار رکنی کمیٹی کو سونپی گئی ہے
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں منگل کو نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کر دی گئی ہے جبکہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی تفتیشی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
فائرنگ کے اس واقعے میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا اور اس حملے میں چھ خواتین سمیت سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ہلاک ہونے والوں میں پانچ استانیاں، ایک لیڈی ہیلتھ ورکر اور ایک ٹیکنیشن شامل ہیں جنہیں بدھ کو سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔
صوابی کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر عبدالرشید خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
ان کے مطابق تفتیش کی ذمہ داری ایک چار رکنی کمیٹی کو سونپی گئی ہے تاہم اب تک اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
ادھر حملے کا نشانہ بننے والے غیر سرکاری تنظیم سپورٹ ود ورکنگ سولیوشن نے اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔ انیس سو اکیانوے میں قائم ہونے والی یہ تنظیم ایک مقامی این جی او ہے جو علاقے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام کر رہی تھی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ صوابی میں غیر سرکاری تنظیم پر حملہ کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ صوابی میں سکولوں پر تو حملے ہوتے رہے ہیں اور انہیں تباہ بھی کیا گیا ہے تاہم اس سے پہلے غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکاروں پر حملے نہیں ہوئے ہیں۔






























