صوابی میں لڑکیوں کا پرائمری سکول تباہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبۂ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں مسلح افراد نے لڑکیوں کے ایک سرکاری پرائمری سکول کی عمارت کو دھماکہ سے تباہ کردیا۔
پولیس اہلکار فضل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب صوابی شہر سے کوئی چار کلومیٹر دور شمال کی جانب ٹوپی روڈ پر علاقہ میاں ڈھیری میں نامعلوم مُسلح افراد نے لڑکیوں کے ایک پرائمری سکول میں تین مقامات پر دھماکہ خیز مواد نصب کیا۔
ان کے بقول دھماکے سے تین کمروں پر مُشتمل سکول مکمل طور پر تباہ ہوگیا جبکہ چار دیواری کو بھی نقصان پہنچا۔
بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر نے بتایا کہ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے تاہم اب تک کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔
ایک اور سرکاری اہلکار نے بتایا کہ قبائلی علاقوں کے بعد ضلع صوابی، چارسدہ اور مردان کے علاقوں میں بھی گزشتہ ایک عرصے سے سکولوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
سرکاری اہلکار کے مطابق صوابی کی نسبت ضلع چارسدہ میں زیادہ سکول تباہ ہوئے ہیں کیونکہ چارسدہ کی سرحدیں قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے ملتی ہیں۔
صوابی کے سکول پر حملے کی ذمہ داری اب تک کسی نے بھی قبول نہیں کی ہے البتہ اس سے پہلے ان علاقوں کے سکولوں میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔
سرکاری اعداد و شُمار کے مطابق قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں نے اب تک ایک ہزار کے قریب سکولوں کو نشانہ بنایا ہے اور ان سکولوں کی دوبارہ تعمیر پر اربوں روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قبائلی پٹی کے اکثر علاقوں میں درس و تدریس کا سلسلہ رُک گیا ہے اور ہزاروں قبائلی بچے اپنے خاندانوں سمیت ملک کے دیگر علاقوں کیجانب منتقل ہوگئے ہیں۔







