
اجالا کمیونٹی سینٹر ایک مقامی این جی او ہے جو علاقے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام کررہی ہے
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک غیر سرکاری تنظیم کی گاڑی پر ہونے والے حملے میں چھ خواتین سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کو موٹر وے کے قریب انبار کے علاقے میں سروس روڈ پر پیش آیا۔ اس حملے میں گاڑی کا ڈرائیور زخمی ہوا ہے۔
صوابی پولیس کنٹرول روم نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپورٹ ود ورکنگ سولیوشن نامی غیر سرکاری تنظییم کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔
اس حملے میں چھ خواتین اور ایک مرد کارکن ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ گاڑی کے ڈرائیور زحمی ہوئے ہیں۔
یہ ایک مقامی این جی او ہے جو علاقے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام کررہی ہے۔
این جی او کے سربراہ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں پانچ استانیاں، ایک لیڈی ہیلتھ ورکر اور ایک ٹیکنیشن شامل ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ صوابی میں غیر سرکاری تنظیم پر حملہ کیا گیا ہے۔
صوابی کے ضلعی پولیس سربراہ عبدالرشید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی غیر سرکاری تنظیم اجالا کمیونٹی سینٹر کے اہلکار گاڑی میں جارہے تھے کے سڑک کے کنارے پہلے سے موجود مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔
پولیس افسر نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے تاہم ابھی تک کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ۔ تاہم ضلعی پولیس سربراہ نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ اس تنظیم کو کون سا ادارہ چلا رہا ہے۔
حملے کا نشانہ بننے والی تنظیم ایس ڈبلیو ڈبلیو ایس 1991 میں قائم ہوئی تھی۔ ابتدا میں اس کے نام کا مطلب صوابی ویمن ویلفیئر سوسائٹی تھا، لیکن 2009 میں اسے بدل کر سپورٹ وِد ورکنگ سلوشن کر دیا گیا۔
تنظیم کے ایک اہل کار محمد رفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تنظیم صوبہ پختون خوا بھر میں فلاحی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ صوابی میں تنظیم غربت میں کمی کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تنظیم کو حملے سے قبل شدت پسندوں کی طرف سے کوئی دھمکی نہیں ملی تھی۔
خیال رہے کہ صوابی میں سکولوں پر تو حملے تو ہوتے رہے ہیں اور ان کو تباہ کیا گیا ہے۔ تاہم اس سے پہلے غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکاروں پر حملے نہیں ہوئے ہیں۔






























