سلامتی کونسل میں غزہ پر اختلاف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کی طرف سے غزہ کی ناکہ بندی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور انسانی المیے پر متفقہ بیان منظور کرنے کی کوششیں ترک دی ہیں۔ اس بیان میں جس پر تمام پرتشدد کارروائیوں کے بند کیے جانے کی بات کی جانی تھی سلامتی کونسل کے پندرہ کے پندرہ ارکان کا متفق ہونا ضروری تھا۔ لیبیا اس بیان میں اسرائیل کے بارے میں زیادہ سخت الفاظ استعمال کرنے کا حامی تھا جو کہ امریکہ کے لیے قابل قبول نہ تھا۔ سلامتی کونسل میں مشرق وسطی کے تنازعہ پر اختلاف کی شدت کے باعث غزہ میں اسرائیل کی ناکہ بندی سے پیدا ہونے والی صورت حال پر اس بیان پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ آٹھ روز تک جاری رہنے والے مذاکرات میں امریکہ جو کہ اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے اور لیبیا جو عرب دنیا کی نمائندگی کر رہا ہے اتفاق نہیں ہو سکا۔ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے برعکس جن پر ووٹنگ کی جاتی ہے سلامتی کونسل کے بیان پر پندرہ کہ پندرہ ارکان کا رضا مند ہونا ضروری ہے۔ جمعہ کو پندرہ میں چودہ ارکان اس بات پر متفق نظر آتے تھے کہ اس بیان میں اسرائیل سے کہا جائے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی ختم کرے اور ساتھ ہی غزہ سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کو بند کیئے جانے کے لیے بھی کہا جائے۔ لیکن لیبیا چاہتا تھا کہ بیان کی زبان میں تبدیل کرکے اس میں اسرائیل مخالف بنایا جائے۔ لیبیا نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے عرب ملکوں کی طرف سے پیش کردہ تجویز رد کر دی۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے نائب سفیر ایلکس ولف نے کہا کہ مشرق وسطی کے تنازع پر اختلاف کی شدید نوعیت کی وجہ یہ بیان منظور نہیں کروایا جا سکا اور میں کوئی راز کی بات نہیں۔۔ انہوں نے کہا ’ہم سب نے مل کر کوشش کی اور میرے خیال میں سب نے اپنی پوری کوشش کی کہ یہ بیان حاصل کر لیا جائے۔‘ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جہاں ترقی پسند ملکوں کی اکثریت ہے اکثر اسرائیل پر شدید تنقید کی جاتی ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||