’پاکستان میں فوجی کارروائی پرغور‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان میں قائم القاعدہ کے مبینہ ٹھاکانوں کو ختم کرنے کے لیےامریکہ فوجی طاقت استعمال کرنے کے بارے میں غور کرے گا۔ امریکہ انتظامیہ کی اس سوچ کو حزب اختلاف ڈیموکریٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدے داروں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ امریکی صدر کی ملک کی اندرونی سلامتی کی مشیر فرانسس فرگوس ٹاؤنسنڈ نے کہا ہے کہ امریکہ صدر مشرف کی طرف سے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں القاعدہ کے شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں بھرپور مدد اور حمایت کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اشارہ بھی دیا کہ امریکہ صدر مشرف کی کوششوں کے علاوہ اضافی اقدامات بھی کر سکتا ہے۔ ایک ٹی انٹرویو میں اندرونی سلامتی کی مشیر سے جب یہ پوچھا گیا کہ امریکہ القاعدہ کو ختم کرنے کے لیے خصوصی کارروائیاں اور دیگر اقدامات کیوں نہیں کرتا تو انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم سرعام بہت سی چیزوں کے بارے میں بات نہیں کرتے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کچھ نہیں کر رہے۔‘ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کی سلامتی سب سے اولین ہے اور اس کے لیے کوئی بھی اقدام بعید از قیاس نہیں۔ ٹاؤنسنڈ نے کہا کہ القاعدہ اور اس کے رہنما اسامہ بن لادن کو ختم کرنے کے لیے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ کے نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکیٹر مائک میکونل نے کہا ان کا خیال ہے کہ بن لادن پاکستان کے قبائلی علاقے میں روپوش ہیں۔ میکونل نےکہا کہ صدر مشرف کی علاقے میں امن قائم کرنے کی حکمت عملی ناکام ہو گئی ہے اور اس نے القاعدہ کو از سر نو منظم ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے ٹاونسنڈ کے اس پاکستان میں براہ راست طاقت کے استعمال کے بارے میں بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ کی طرف سے کوئی خفیہ معلومات فراہم کی جاتی ہے تو پاکستان کی فوج اس پر خود کارروائی کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتی ہے۔ امریکی ٹی وی نیٹ ورک سی این این سے بات کرتے ہوئے خورشید محمود قصوری نے کہا کہ اندازے لگانے کے بجائے امریکہ کو اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے واضح شواہد دینے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایسی خفیہ اطلاع فراہم کرے جس پر کارروائی کی جا سکے تو آپ دیکھیں گے پاکستانی فوج کسی پس و پیش کے بغیر اس پر بھر پور کارروائی کرے گی۔ خورشید محمود قصوری نے امریکی ذرائع ابلاغ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ امریکی عوام کو پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں سے آگاہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مائک میکونل نے کہا کہ القاعدہ کی قیادت سلامت ہے اس کے پاس منصوبہ بندی کرنے والے موجود ہیں، اس کے پاس محفوظ پناہ گاہ بھی لیکن اس کو امریکہ کے اندر کارروائی کرنے کے لیے کارندے نہیں مل رہے۔ امریکی انٹیلیجنس کے اندازوں پر مشتمل رپورٹ کے مطابق جو کہ گزشتہ ہفتے پیش کئی گئی القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہو گئی ہیں ایسا مشرف حکومت کی قبائلیوں کے ساتھ معاہدے کے دوران ہوا ہے۔ دس ماہ تک قائم رہنے والے اس معاہدے سے القاعدہ کو تربیتی مرکز بنانے، بین الاقومی سطح پر اپنے رابط بحال کر لیے ہیں اور اپنی کارروائیوں کو بہتر بنا لیا ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||