’گے میریجز‘: امریکہ میں تنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان سے تعلق رکھنے والے اب بوسٹن (امریکہ ) میں رہنے والے ایک ممتاز مرد ڈاکٹر نے نیویارک سے نکلنے والے ایک پاکستانی اردو اخبار میں جب ’مسلم مرد جیون ساتھی کی ضرورت ہے‘ کے عنوان سے بےنام اشتہار دیا تھا تو اسے یہ تب نہیں معلوم تھا کہ امریکہ میں ’گے میریج‘ یا ہمجنس شادیوں پر بحث ایک قومی بحث کی شکل اختیار کرلےگی جسکا آغاز اس ڈاکٹر کی ہی ریاست میساچوسٹس سے ہوگا- گے میریجز پر اب بحث نے گزشتہ ہفتے سے لے کر اور بھی گرمی پکڑ لی ہے جب سے صدر جارج بش نے اپنے ہفتہ وار ریڈیو خطاب کے دوران سینیٹ سے گے میریجز یا ہمجنس شادیوں پر پابندی کا قانون پاس کرنے کا کہا۔ اس پر پیر سےامریکی سینیٹ نے بھی بحث کا آغاز شروع ہوا ہے- امریکی عوام اور انکے نمائندے گے میریجز پر بابندی کے سوال پر بٹے ہوئے نظرآتے ہیں- کئی مبصرین کی رائے میں ’گے میریجز یا ہمجنس شادیوں پر بندش کے حمایتی ریپبلیکن ارکان ایسا بل کامیباب کروا جانے میں تو بہت دور دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ بحث امریکی عوام کو تقسیم کردے گی‘ ۔ امریکی سینیٹ میں صدر بش کے تجویز کردہ گے شادیوں پر پابندی کا قانون پاس کروانے کے لیے دو تہائي اکثریت درکار ہے جو کسی ایسے قانون کے حق یا مخالفت میں سینیٹ میں کسی بھی پارٹی کو نہیں- سینیٹ سے ایسے قانون کو منظور کروانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی جو اس وقت ریپبلیکن پارٹی کے پاس بھی نہیں- یاد رہے کہ جب دو ہزار چار میں گے شادیوں پر پابندی کی تحریک سینیٹ میں لائی گئی تھی تو اس وقت بھی اسے صرف اڑتالیس منتخب نمائئندوں یا سینیٹروں کی حمایت جاصل ہو سکی تھی- اب بھی بہت سے امریکی اخبارات میں مبصرین کی آراء چھپی ہیں کہ سنیٹ میں گے شادیوں کی حق اور مخالفت میں ووٹوں کا تناسب پچاس اور اٹڑتالیس کے حساب سے پڑے گا- گے شادیوں پرخود صدر بش کی انتظامیہ کے سینئیر ارکان، قریبی ساتھی اور ریپلیکن پارٹی کے ارکین بھی بٹے ہوئے بتائے جاتے ہیں- اخبار ’یو ایس اے ثوڈے‘ کے مطابق صدر بش کےساتھیوں اور پارٹی میں انکی ایسی تجویز سے اختلاف رکھنےوالوں میں نائب صدر ڈک چینی بھی شامل ہیں- یاد رہے کہ نائب صدر ڈک چینی کی بیٹی میری بھی ہمجنس پرست یا ’لیزبین‘ ہے- نائب صدر ڈک چینی کا موقف ہے کہ ہمجنس شادیوں پر پابندی پر قوانین کی منظوریوں کا مسئلہ ریاستوں کی اسیملیوں پر چھوڑنا چاہیے- امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سے اڑتیس نے پہلے ہی گے شادیوں پر پابندی کی حمایت میں ووٹ دیے ہوئے ہیں- گے شادیوں پر بحث نے اس وقت سے شدت اختیار کی ہوئی ہے جب سن دو ہزار تیین میں ریاست میساچوسٹس کی سپریم کورٹ نے گے شادیوں کو قانونی قرار دیا تھا۔ اسے دیکھتے ہوئے کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو کے مئير نے گے شادیوں کی تصدیق کرنا شوع کردی تھی اور مرد اور عورت ہمجنسوں کی جوڑوں کے درمیاں یہ شادیاں تین ہزار سے بھی تجاوز کر گئی تھیں- سان فرانسسکو امریکہ میں ہمجنس لوگوں اور گے حقوق کی تحاریک کا مظبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے جہاں انتخابات میں گے ووٹ بھی بڑی جد تک فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں- صدر بش نے ریاست میساچوسٹس کی سپریم کورٹ کے گے شادیوں کے حق میں فیصلے اور سان فرانسسکو میں ہزاروں گے شادیوں کے بعد ان پر پابندی کا اعلان کیا تھا- دو ہزار چار کے عام انتخابات میں امریکہ کی اڑتیس ریاستوں نے گے شادیوں کے خلاف ووٹ دیا تھا جبکہ ریپبلیکن پارٹی کی حمایت کرنے والے قدامت پسند ووٹروں کی اکثریتی ریاستیں جنہیں امریکہ میں ’سرخ ریاستیں‘ کہا جاتا ہے گے شادیوں کی مخالفت کے مورچے ثابت ہوئی ہیں- صدر بش اور انکے حمایتی ووٹروں چاہے امریکیوں کی اکثریت امریکہ میں خاندان اور شادی کا تصور مرد اور عورت کے درمیاں شادی سمجھتے ہیں اور صدر بش گے شادیوں کے حق میں فیصلہ دینے والے ججوں کو ’ایکٹوسٹ ججز‘ کا نام دیتے ہیں جو اصطلاح انہوں نے اپنے حالیہ ریڈیو خطاب کے دوران بھی استعمال کی- لیکن صدر بش کے مخالفین، ڈیموکریٹ پارٹی اور گے حقوق کی تنظیمیں اور خود ریپلیکن پارٹی کے کچھ منتخب ارکان اس تجویز کو آئندہ نومبر میں ہونے والے کانگرس کے انتخابات کے لیے ایک نعرہ ہی قرار دے رہے ہیں- مبصرین کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں اس وقت گے شادیوں کے حق اور مخالفت کا دلچسپ نقشہ بنا ہوا ہے جس میں سب کے سب ریپلیکن ارکان اس کے حق میں نہیں جبکہ سب ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان اس کی مخالفت میں جٹے ہوئے ہیں- امریکہ میں حال ہی میں کچھ عقیدے پر بنیاد رکھنے والی تنظیموں اور کچھ عیسائی منسٹروں کی طرف سے گے شادیوں اور گے لوگوں کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے- ان میں ریاست ٹینیسی کا ایک چرچ گروپ بھی شامل ہے جس نے کھا ہے کہ ’عراق میں امریکی اس لیے ہلاک ہو ر ہے ہیں کیونکہ امریکہ میں ہمجنسیت کو برداشت کرنے پر خدا ان سے ناراض ہے‘- ایسے احتجاجیوں کا سامنا صدر بش کی کاروں کے کاروان کو بھی انتیس مئی کو اس وقت کرنا پڑا تھا جب وہ امریکی جنگوں میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی یاد میں گمنام سپاہیوں کی قبر پر پھول چڑھانے کے لیے واشنگٹن میں فوجیوں کے یادگار قبرستان کو جار ہے تھے- اس سے قبل اس صدر بش نے جنازوں کے جلوسوں کے خلاف ایسے مظاہرین سے نمٹنے کیلیے ’شخصی آزادیوں‘ میں مداخلت کے خلاف قانوں والے مسودے پر دستخط کیے تھے- لیکن صدر بش نے ایسے اینٹی گے چرچ کے مظاہیرین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی کیونکہ اس وقت کوئی جنازہ نہیں جا رہا تھا اور نیز یہ کہ متعلقہ ریاست کے قوانین کے مطابق وہ اپنا حق اظہار رائے استعمال کر رہے تھے- جبکہ اب عراق جنگ میں مارے جانے والے اس سپاہی کے والد نے ٹینیسی کے اس چرچ کے خلاف ’شخصی آزادی‘ کے قانون کے تحت مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے- | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||