دلہا بکتا ہے بولو خریدو گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کسی بھی معاشرے میں شادی ایک اہم موقع ہوتا ہے لیکن کیوبا میں یہ ایک اہم کاروبار بھی ہے۔ کیوبا کی کئی عورتیں غیر ملکی شوہروں کو ملک سے باہر جانے کا ایک پاسپورٹ اور ایک طرح سے ممکنہ طور پر خوشحال ہونے کا ضامن بھی سمجھتی ہیں۔ کچھ روز پہلے میں اپنی ایک دوست سے جوتوں کی دکان میں ملا جہاں وہ سفید جوتے خرید رہی تھی۔ جب میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کس لیے؟ تو اس کا جواب تھا کہ میری شادی ہو رہی ہے۔ ’کس سے شادی ہو رہی ہے؟‘ میں نے پوچھا۔ ’ایک میکسیکن سے‘۔ ’اس سے کب ملی؟‘ ’ابھی تک نہیں‘۔ بعد میں مجھے پتا چلا کہ وہ ایک طرح سے ایک ’غیر ملکی شوہر کو خرید رہی ہیں‘ جو کہ آجکل کیوبا میں عام کاروبار ہے۔ کیوبا کی کئی خواتین ملک سے باہر جانے کے لیے یہ ہی طریقہ استعمال کر رہی ہیں۔ لیکن یہ بھی کوئی سستا سودا نہیں ہے۔ میری دوست نے اپنے میکسیکن دلہے کے لیے پانچ ہزار امریکی ڈالر خرچ کیے ہیں۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ امریکی، کینیڈیائی اور یورپی شوہروں کے لیے بھی یہ ہی ریٹ ہے۔ کوسٹا ریکا کے دلہا دو ہزار ڈالر میں بھی مل سکتا ہے۔ لیکن سب سے اچھی ریٹ پیرو کے دلہے کا ہے جو کہ آٹھ سو ڈالر میں بھی مل سکتا ہے۔ کچھ روز بعد میں اپنی دوست کی شادی میں گیا۔ وہاں ماحول بہت خوش تھا۔ ہر کوئی ناچ گا رہا تھا اور میکسیکن دلہا ’پیپ‘ جو کہ ابھی چند گھنٹوں پہلے خاندان سے ملا تھا ان سے گھل مل گیا تھا۔ دلہا، دلہن اور دلہن کے خاندان والے سب ہی خوشی سے ناچ رہے تھے حالانکہ سب کو معلوم تھا کہ یہ شادی نقلی ہے اور صرف ملک سے باہر جانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ تصویریں کھینچی جا رہی تھیں اور شادی کا ویڈیو بھی بنایا جا رہا تھا تاکہ اگر میکسیکو کے سفارتخانے میں اگر کوئی شادی کی صداقت کے بارے میں کوئی مشکل سوالات پوچھے تو اسے دکھایا جا سکے۔ لوگ اکثر کہتے ہیں کہ کیوبا کی کئی تہیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||