آئی آر اے کی مسلح جدوجہد ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئرش ریپبلکن پارٹی نے تیس سال کی مسلح جہدوجہد ترک کر کے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سیاسی ذرائع کا استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آئرش ریپبلک آرمی کی جانب سے جاری ہونے ایک بیان میں تمام کارکنوں کو اسلحہ پھینک دینے کا حکم ملا ہے۔ آئی آر اے پر الزام لگتا رہا ہے کہ شمالی آئرلینڈ کی آزادی کے لیے اس کی مسلح جہدوجہد کے نتیجے میں اٹھارہ سو لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ شین فین پارٹی صدر کے صدر گیری ایڈم کی جانب سے پارٹی کے اندر شروع کی جانے والی اس بحث کے بعد کہ حقوق کے حصول کے لیے صرف سیاسی جہدوجہد کا راستہ اختیار کیا جائے ، آئی آر آے نے مسلح جہد وجہد ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ آئی آر اے 1969 میں اس وقت بنائی گئی تھی جب شمالی آئرلینڈ میں نیشنل کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان ہونے والی ہونے والی جھڑپوں کے بعد فوج کو وہاں بھیجا گیا تھا۔ آئرش رپبلکن آرمی کی جڑیں آئرلینڈ کی قوم پرست تحریک تک جاتی ہے جو برطانوی حکمرانی کے خلاف اٹھارویں صدی میں شروع ہوئی تھی۔ انیس سو چودہ میں برطانوی پارلیمنٹ نےآئرلینڈ کے لیے ہوم رول کی منظوری دی تھی لیکن پہلی جنگ عظیم شروع ہوجانے کی وجہ سے اس کا اطلاق نہیں ہو سکا۔ اس کے صرف دو سال بعد قوم پرستوں نے ڈبلن میں جرمنی کی حمایت سے بغاوت کی لیکن اسے جلدی ہی کچل دیا گیا۔ جس بے رحمی کے ساتھ بغاوت کچلی گئی، اسی کے نتیجے میں در اصل آئرش رپبلیکن آرمی کا وجود عمل میں آیا۔ قابل ذکر ہے کہ اس دوران مقامی لوگوں کو جبراً فوج میں بھرتی کرکے جنگ کے محاذ پر بھیجا جاتا تھا۔ یہ فوجی انیس سو اٹھارہ میں واپس آئے اور اس کے فوراً بعد آئی آر اے نے آزادی کی پہلی لڑائی لڑی۔ اوراس لڑائی میں دونوں جانب سے بہت زیادتیاں ہوئیں۔ انیس سو اکیس میں ایک معاہدے کے تحت آئرش فری اسٹیٹ قائم ہوا جس پر سلطنت برطانیہ کا ڈھیلا ڈھالا کنٹرول تھا۔ شمال میں واقع پروٹیسٹنٹ عیسائیوں اور برطانوی تاج کے وفاداروں کے علاقے برطانیہ میں ہی رہنے دیے گئے اور آئی آر اے کو آئرش فری اسٹیٹ کی فوج کا درجہ حاصل ہوگیا۔ لیکن اس معاہدے کی سخت مخالفت بھی ہوئی اور صرف دو سال بعد یہ علاقہ خانہ جنگی کا شکار ہوگیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||