باغی شاعر شیلی کے خط کی قیمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشہور انگریزی شاعر پی بی شیلی کا خط پینتالیس ہزار چھ سو پونڈ میں فروخت ہو گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پی بی شیلی نے یہ خط دسمبر اور فروری 1810/1811 میں رالف ویجوڈ کو لکھا تھا۔ یہ خط ویجوڈ کے ایک شخص کو ایک صندوق میں سے ملا ہے۔ اس شخص کو اس خط کی اہمیت کا احساس نہیں تھا اور اس نے یہ خط اپنے پڑوسی کو دے دیا جس نے خط نیلامی کرنے والوں کے حوالے کیا ہے۔ یہ خط تحریر کرتے وقت پی بی شیلی آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے جہاں سے ان کے منفرد مذہبی خیالات کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس خط سے پی بی شیلی کے لادینیت کے بارے میں ان کے خیالات سمھجنے میں مدد مل سکے گی۔ یہ خط جنوبی مغربی لندن کے ایک گھر سے ملے ہیں۔ پی بی شیلے کے خط کے ساتھ ان کے دوست جیفرسن ہاگ کے چار خطوط بھی ملے ہیں۔ شیلی اور جیفرسن ہاگ کو لادینیت کے بارے میں ایک پمفلٹ لکھنے کی وجہ سے آکسفورڈ یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ شیلی نے ایک خط میں لکھا کہ یسوع مسیح کبھی کوئی وجود ہی نہیں رہا ہے اور ان ذات کے متعلق بنائی گئی تمام کہانیاں تہمات پر مبنی ہیں۔ پی بی شیلی جوانی میں ہی ڈوب کر ہلاک ہو گیا تھا۔ ان کو جان کیٹس ، ورڈز ورتھ کے ساتھ انیسویں صدی کا بڑا شاعر مانا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||