شیکسپئرکا پورٹریٹ نقلی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین کا کہنا ہے کہ ولیم شیکسپئر کی مشہور زمانہ پورٹریٹ کے مستند ہونے پر جاری بحث آخر کار ختم ہوگئی ہے۔ تاریخ داں شیکسپئر کی فلاور پورٹریٹ نامی تصویر پر درج 1609 کی تاریخ پر متفق نہیں تھے۔ ماہرین میں اس بات پر اتفاق نہیں تھا کہ رائل شیکسپئیر کمپنی کی ملکیت یہ تصویر اس مشہور زمانہ انگریزی ڈرامہ نگار کے دور زندگی میں بنائی گئی تھی۔ اب لندن کی نیشنل پورٹریٹ گیلری کے ماہرین نے تصدیق کردی ہے کہ یہ تصویر جعلی ہے کیونکہ یہ سترہویں صدی کے بجائے انیسوی صدی کے اوائل میں بنائی گئی تھی۔ بی بی سی پر اس منفرد تحقیق اور اس کے نتائج جمعرات کو اس کے ایک ٹیلیویژن پروگرام میں نیشنل پورٹریٹ گیلری کے ماہرین نے ظاہر کیے۔ سائنسی تجزیے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے اس تصویر میں استعمال کیے گئے ایک رنگ کے وہ اجزاء جو اس تصویر کی گہرائی میں جذب ہیں ان کا تعلق اسی دور سے ہے جبکہ شیکسپئر کی شبیہ سولہویں صدی میں بنائی گئی ’میڈونا اینڈ چائلڈ‘ پینٹنگ کے اوپر بنائی گئی ہے ۔ سر ڈیسمینڈ فلاور نے یہ تصویر آر سی اے کو 1892 میں بطور عطیہ دی تھی اور یوں یہ تصویر فلاور پورٹریٹ کے نام سے مشہور ہوئی ۔ یہ ان تین تصویروں میں سے ایک ہے جسے آئندہ سال نیشنل پورٹریٹ گیلری میں ہونے والی ’شیکسپئر کی تلاش‘ نامی نمائش سے پہلے جانچا جارہا ہے۔ شیکسپئیر کی شبیہ کے لیے جانچی جانے والی دوسری دو مشہور تصاویر فلاور پورٹریٹ کے چار ماہ تک مختلف ٹیسٹ کیے گئے جن میں ایکسرے، الٹراوائلٹ روشنی، رنگ کے نمونے اور مائیکرو فوٹوگرافی شامل ہیں۔ اس جانچ کے نتیجے میں ایک ایسا پیلا رنگ سامنے آیا جس کے استعمال کے شواہد 1814 سے پہلے نہیں ملتے۔ نیشنل پورٹریٹ گیلری میں سولہویں صدی کے دور کی کیوریٹر ڈاکٹر ٹرنیا کوپر کہتی ہیں ’ اب ہمارا خیال ہے کہ یہ پینٹنگ 1818 سے 1840 کے درمیان بنائی گئی اور یہ وہ وقت تھا جب شیکسپئر کے ڈراموں میں دوبارہ دلچسپی لیے جانے کا رجحان نظر آتا ہے۔ ’شیکسپئیر کی تلاش‘ نمائش نیشنل پورٹریٹ گیلری کی 150ویں سالگرہ منانے کے موقع پر منعقد کی جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||