یوکرین میں دوبارہ انتخابی معرکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوکرین میں عوام آٹھ ہفتوں میں تیسری دفعہ صدر کے انتخاب کے لیے اتوار کو ووٹ ڈال رہے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں مقامی اور بین الاقوامی مبصرین سرکاری امیدوار وکٹر یانوکووچ اور حزب اختلاف کے رہنما وکٹر یوشنکو کے درمیان اس انتخابی معرکے کی نگرانی کے لیے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں حزب اختلاف اور بین الاقوامی مبصرین کی طرف سے لگائے جانے والے دھاندلی کے الزامات کے بعد سپریم کورٹ نے اس کے نتائج کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔ ان انتخابات میں سرکاری امیدوار وکٹر یانوکووچ نے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان انتخابات کے لیے چلائی جانے والی انتخابی مہم نے مغربی اور مشرقی یوکرین میں یورپ کے ساتھ قریب تعلقات استوار کرنے کے مسئلہ پر عوام کو واضح طور پر تقسیم کر دیا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما یوشنکو یورپی یونین اور نیٹو سے قریبی تعلقات کے حق میں ہیں۔ جبکہ یوکرین کا مشرقی اور صنعتی علاقہ روس سے تعلقات کے حق میں ہے اور یہاں سرکاری امیدوار وکٹر یانوکوچ کو عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ اتوار کو ہونے والے انتخابی معرکے کے نتائج کے اعلان سے پہلے سکیورٹی فورسز کو کسی بھی قسم کے عوامی احتجاج سے نبٹنے کے لیے چوکس کر دیا گیا ہے۔ ان انتخابات کے نتائج کے بارے میں ہفتے کو اس وقت بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی جب ایک آئینی عدالت نے عمر رسیدہ اور معذور افراد کے گھر سے ووٹ ڈالنے کی سہولت پر پابندی اٹھالی۔ گزشتہ انتخابات میں حزب اختلاف نے الزام لگایا تھا کہ حکومت نے عمر رسیدہ اور معذور افراد کو حاصل اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان انتخابات کے نتائج کو تبدیل کر دیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس سہولت کے بحال ہوجانے کی وجہ سے یہ خدشہ پیدا ہوا گیا ہے کہ انتخابات میں ہارنے والا امیدوار نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دے اور یوکرین میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری سیاسی بحران مزید طوالت اختیار کر لے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||