زلزلے کی تباہ کاریاں نامہ نگاروں کی نظر سے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشیا میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بارے میں بی بی سی کے نامہ نگاروں نے متاثرہ علاقوں سے ہمیں یہ رپورٹس بھیجیں۔ ریچل ہاروی: جکارتہ، 1510 جی ایم ٹی ’ہمیں ابھی معلوم ہوا ہے کہ ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار اچانک بہت بڑھ گئے ہیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ 1847 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انڈونیشیا کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ آچے ہے۔ یہ ضلع حکومت اور علیحدگی پسندوں کے درمیان تنازعہ کے باعث گزشتہ اٹھارہ ماہ سے سیل کردیا گیا تھا مگر اب لگتا ہے کہ امدادی کاموں کے لیے یہ پابندی اٹھالی جائے گی‘۔ جینا ولکنسن: کولمبو، 1430 جی ایم ٹی مشرقی بندرگاہ کے علاقے ٹرنکومالی میں فوج کا کہنا ہے کہ سونامی لہریں علاقے میں دو کلومیٹر تک آگے آگئیں اور گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹادیے۔ ابھی مزید سونامی لہروں کا خدشہ ہے۔ صدر چندریکا کماراتنگا نے اسے قومی بحران قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے مدد کی اپیل کی ہے۔ سنجیو سری واستو: دہلی، 1325 جی ایم ٹی ’بھارت کے بہت سے شہر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ تامل ناڈو کا ایک چھوٹا قصبہ ولاکانی بھی انہیں میں سے ایک ہے۔ اسے ایک مقدس مقام سمجھا جاتا ہے اور یہاں بہت سے زائرین مقدس پانی میں نہا رہے تھے۔ ان میں سے 400 - 500 افراد اسی پانی میں ڈوب گئے لیکن یہ اعداد و شمار فی الحال صرف ایک اندازے ہی کی بنیاد پر دیے جاسکتے ہیں‘۔ انڈریو ہارڈنگ: سنگاپور، 1255 جی ایم ٹی کچھ افراد نے پہلے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے، کچھ نے سمندری لہروں کو چند منٹ کے لیے اپنے معمول سے زیادہ پیچھے جاتے دیکھا جس کے کچھ ہی دیر بعد30 فٹ اونچی پانی کی ایک دیوار ساحلوں کی طرف بڑھنے لگی۔ سونامی نے بحر ہند کے اردگرد تباہ کاری مچادی ہے۔ بہت عظیم لہریں تھیں جو راکٹ کی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھیں۔ بعد میں بھی کئی جھٹکے محسوس کیے گئے مگر کسی میں بھی پہلے جھٹکے والی شدت نہیں تھی۔ اب ساری توجہ زخمیوں کے بچاؤ اور لاشوں کی تلاش پر ہے اور اس انتظار پر بھی کہ آیا ماہی گیری کی غرض سے بحرہند میں جانے والی ہزاروں کشتیاں کیا کبھی واپس بھی آسکیں گی یا نہیں‘۔ نودیپ دھرے وال: دہلی 1215 جی ایم ٹی تامل ناڈو کی ریاست لہروں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ تقریباً 500 سیاح اونچی لہروں کی نذر ہوگئے ہیں جبکہ ایک نیوکلیئر ری ایکٹر کو بند کرنا پڑا ہے۔ بھارت کی فوج ہائی الرٹ پر ہے۔ جینا ولکنسن: کولمبو، 1120 جی ایم ٹی ’ایک فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ تباہ کاری کا دائرہ سری لنکا میں جافنا سے لے کر جنوبی ساحلوں تک جا پہنچا ہے۔ فوج کے دس ہزار جوان زخمیوں اور لاشوں کی تلاش میں ہیں۔ ٹرنکولوم کے ضلع میں بہت سی بارودی سرنگیں اپنی جگہ چھوڑ کر علاقے میں پھیل گئی ہیں جس سے امدادی کارروائیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ یہ وہ بارودی سرنگیں ہیں جو خانہ جنگی کے دور میں بچھائی گئی تھیں۔ پولیس کے مطابق مدراپو کے شہر میں 100 سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ کئی سیاحتی مقامات بھی تباہ کاری کی نذر ہوئے ہیں جہاں بہت سے مقامی و غیر ملکی سیاح چھٹیاں منانے آئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے‘۔ سمپتھ کمار: مدراس، 1115 جی ایم ٹی مدراس بھارت کے خوبصورت ترین ساحلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اتوار ہونے کے باعث بہت سے افراد سیاحت کے لیے وہاں جمع تھے۔ اچانک ہی خبردار کیے بغیر پانی کی بڑی بڑی لہریں ساحل کی طرف بڑھنے لگیں۔ بہت سے افراد بے خبری میں لہروں کا شکار ہوگئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ پانی اچھل کر ان کے اوپر آرہا ہے۔ لہریں دو سو فٹ تک اونچی تھیں‘۔ میتھیو گرانٹ: کلکتہ، 0845 جی ایم ٹی ’مدراس میں پولیس چیف کا کہنا ہے کہ کم از کم سو لاشیں ساحلی علاقوں سے ملی ہیں جن میں بیشتر تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ خیال ہے کہ ریاست کے دیگر علاقوں میں مزید سو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ زلزلے کا اثر بھارت کی جنوبی اور مشرقی بندرگاہوں پر محسوس کیا گیا۔ کئی گاؤں خالی کرالیے گئے ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||