فلسطینی رہنما بیت اللحم میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی شہر بیت الحم کے چرچ آف نیٹوٹی میں جہاں حضرت عیسیٰ پیدا ہوئے تھے کرسمس کی تقریبات منائی گئیں۔ تین سال میں پہلی مرتبہ اسرائیلی انتظامیہ نے فلسطینی رہنماؤں کو ان تقریبات میں شرکت کی اجازت دی ہے۔ عبادت کے دوران امن کے لیے دعائیں مانگی گئیں۔ نومبر میں وفات پانے والے فلسطینی یاسر عرفات کو اس شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہی ملی تھی۔ اسرائیل ان پر الزام لگاتا تھا کہ سابق فلسطینی رہنما کے دہشت گردوں کے ساتھ رابطے ہیں۔ بیت اللحم کے چرچ آف نیٹوٹی میں فلسطینی انتظامیہ کے عبوری رہنما راوہی فتوح اور صدارت کے امیدوار محمود عباس نے عبادت میں حصہ لیا۔ محمود عباس نے کہا کہ وہ اسرائیل کی طرف عدل اور انصاف پر مبنی امن مذاکرات کے لیے ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں۔ اسرائیلی انتظامیہ نے اس سال فلسطینی عیسائیوں کے لیے بھی کرسمس کے موقع پر بیت اللحم میں داخلے میں نرمی کی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں عیسائی عبادت میں حصہ لے سکے۔
روم میں پاپ جان پال دوئم نے نصف شب کی عبادت میں حصہ لیا اور کہا کہ ساری انسانیت کو جو مشکلات اور مختلف مرحلوں سے گزر رہی ہے یسوع مسیح کی ضرورت ہے۔ چوراسی سالہ پادری نے اپنی بیماری اور کمزوری کے باوجود اپنا خطبہ پڑھا جو نسبتاً تھوڑے وقفے کا تھا۔ دریں اثناء کیتھولک چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ نے نصف شب کی عبادت میں عراق میں جنگ پر تنقید کی ہے۔ پادری مرفی او کونرز نے دو ہزار افراد کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے زیادہ کوششیں کرنا چاہیئں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی زیادتی ہے کہ اربوں پاؤنڈ اس لڑائی پر خرچ کیے گئے جن سے لوگوں کی مدد کی جا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ہم مذہب عیسائیوں کو کس طرح ’کرسمس کی مبادرکباد دے سکتے ہیں جب تک میں اور آپ کسی بھی طریقے سے امن کے لیے ہر ممکنہ کوشش نہ کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||