جنرل پنوشے کی نظر بندی معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چلی کے ایک جج کی طرف سے ملک کے سابق ملٹری ڈکٹیٹر جنرل آگسٹو پِنوشے کو نظر بند کرنے کے احکامات کو معطل کردیا گیا ہے۔ جنرل پنوشےکے وکلا اب ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کا دفاع کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس سے پہلے جج یوان گزمین نے کہا تھا کہ جنرل پنوشے ذہنی طور پر اس قابل ہیں کہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے اور ان کے خلاف نو سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کے سلسلے میں ایک مقدمے میں انہیں نظر بند کرنے کے احکامات بھی جاری کردئے گئے تھے۔ اس پیش رفت پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔ مسٹر پنوشے 1973 میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار میں آئے تھے اور انہوں نے سترہ سال یعنی 1990 تک ملک پر حکومت کی۔ ان پر 1970 کی دہائی میں آپریشن کونڈور میں حصہ لینے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ یہ وہ آپریشن تھا جو اس زمانے کی جنوبی امریکہ کی حکومتوں کی اپنے بائیں بازو کے مخالفین کو ختم کرنے کے لیے کیا تھا۔ اس کے تحت چلی کی خفیہ پولیس نے ملک میں اور ملک سے باہر قتل کیے۔اور حقوق انسانی کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں لوگوں کو اغوا کر کے یا تو ظلم کا نشانہ بنایا گیا یا قتل کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ مسٹر پنوشے پر ان سے پچھلے آرمی چیف جنرل کارلوس کے قتل کا الزام بھی لگایا جائے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||