برغوثی بھی الیکشن لڑیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقید فلسطینی رہنما مروان برغوثی نے اگلے ماہ کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔ بدھ کے روز ان کی بیوی نے اس سلسلے میں ان کے کاغذات رجسٹریشن کی ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے پہلے جمع کروائے۔ مسٹر برغوثی کے اس فیصلے سے فلسطین کےصدارتی انتخابات میں ، جن میں بظاہر محمود عباس کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے تھے، مقابلہ اب سخت ہوسکتا ہے۔ فلسطینی گروپ فتح نے مسٹر برغوثی کے اس فیصلے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ تنظیم کے ایک ترجمان طیب عبدالرحمٰن نے کہا ہے کہ مسٹر برغوثی نے اپنی امیدواری کا اعلان کر کے فتح سے اپنا تعلق توڑ لیا ہے اور ان کے اس فیصلے کو تنظیم ’حیران کن اور قابل مذمت‘ سمجھتی ہے۔ ہچھلے ہفتے مسٹر برغوثی نے بیان دیا تھا کہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے اور محمود عباس کی حمایت کریں گے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق مسٹر برغوثی یاسر عرفات کے بعد فلسطین کے سب سے مقبول رہنما ہیں۔ پینتالیس برس کے مروان برغوثی چار اسرائیلی فوجیوں اور ایک یونانی راہب کو ہلاک کرنے کے جرم میں پانچ مرتبہ سنائی جانے والی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اب تک یہی خیال کیا جارہا تھا کہ محمود عباس ان انتخابات میں مقبولیت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہیں جبکہ مسٹر برغوثی کے کزن مصطفٰی دوسرے نمبر پر ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||