سوچی کی نظربندی میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما میں حکومت نے اپوزیشن لیڈر آنگ سان سوچی کی گھر میں نظر بندی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہیں گزشتہ سال مئی میں تیسری مرتبہ گھر میں نظر بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ سوچی کی گھر میں نظر بندی کے احکام اس وقت دیئے گئے تھے جب برما کی حکومت کے طرفداروں اور ان کے حامیوں کے درمیان ملک کے شمالی علاقوں میں جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔ آنگ سوچی کی نظربندی بڑھا دینے کے احکامات ایسے وقت سامنے آنے ہیں جب ملک کی حکمراں فوجی جنتا نے نہ صرف نئے وزیرِ اعظم سُو وِن کا تقرر ہوا ہے بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ نو ہزار قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ سوچی کی گھر میں نظر بندی میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے ترجمان نے کہا ہے کہ پولیس نے رنگون میں سوچی کے گھر جا کر انہیں یہ بتایا کہ ان کی نظربندی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ آنگ سان سوچی جو ایک نوبیل انعام کی حامل بھی ہیں کہتی ہے کہ نئے حکم کا مطلب یہ ہوگا کہ انہیں اگلے برس یعنی سن دو ہزار پانچ کے ستمبر تک گھر میں نظر بند رہنا پڑے گا۔ برما کے نئے وزیرِ اعظم وِن واضح کر چکے ہیں کہ سوچی کی جماعت سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ حکومت کے بعض ناقد اور کچھ سفارت کار کہتے ہیں کہ برما کے نئے وزیرِ اعظم ہی گزشتہ مئی میں حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے حامیوں کے درمیان ان جھڑپوں کے ذمہ دار ہیں جن کے بعد سوچی کو حراست میں رہنے کا حکم ملا تھا۔ سوچی نے بارہا یہ کہا ہے کہ اگر ان کی جماعت کے تیرہ سو کارکن جو آج کل قید میں ہیں انہیں رہا کر دیا جائے اور اس کے بعد سوچی کا نمبر آئے تو وہ ایسی رہائی قبول کر لیں گی۔ آنگ سوچی کی جماعت نے انیس سو نوے میں انتخابات میں زبردست فتح حاصل کی تھی لیکن حکمراں فوج نے انہیں کبھی برسرِ اقتدار نہیں آنے دیا۔ برما میں فوج انیس سو باسٹھ سے اقتدار میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||