اخباری فوٹوگرافی کے پانچ ہزار دن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک تصویر ہزار الفاظ کا متبادل ہوتی ہے۔ برٹش فوٹوگرافرز ایسوسی ایشن (بی پی پی اے) کے زیر اہتمام لندن میں دریائے ٹیمز کے جنوبی کنارے پر واقع نیشنل تھیٹر میں ہونے والی اخباری تصاویر کی نمائش’ 5000 دن‘ کو دیکھ کر اِس بات پر یقین ہوتا ہے۔ ان پانچ ہزار دنوں کا احاطہ 1989 میں چیک ریپبلک میں پراگ انقلاب سے شروع ہوکر آجکل جاری عراق جنگ تک محیط ہے۔ یہ تصویری نمائش اُن برطانوی اخباری فوٹوگرافروں کا کام ہے جس کے لئے نہ صرف انہوں نے اپنی تمام تر تخلیقی صلاحیتیں استعمال کیں بلکہ بعض تصاویر کو دیکھ کر اِس پیشے سے منسلک جان کو لاحق خطرات کا بھی بھرپور اندازہ ہوتا ہے۔ جنگ کے میدان سے کھیل کے میدان تک سیاسی عروج سے زوال تک ایک اخباری فوٹو گرافر ان یادگار لمحات کو تاریخ کے صفحوں پر امر کردیتا ہے۔اس نمائش میں شامل 100 تصاویر اُن 270 تصویروں کے علاوہ ہیں جو ایک کتاب کی شکل میں شائع کی گئی ہیں۔ یہ تمام اخباری تصاویر تاریخ کی بہت ہی یادگار تبدیلیوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ اِس نمائش میں آپ کو انسانی عروج اور انسانیت کی تذلیل اپنی تمام تر حقیقی شہادتوں کے ساتھ نظر آئے گی ۔ کچھ تصاویر پر کمپوزیشن کے حوالے سے تنقید کی جاسکتی ہے لیکن موضوع اور متن کی کمی کسی بھی تصویر میں محسوس نہیں ہوتی۔ منگلا ڈیم کی تعمیر کے نتیجے میں غرقاب شہر کا پانی سے اوپر نظر آتا پرانے مندر کی عمارت کا ایک حصہ حالیہ تاریخ میں قدرتی ماحول اور انسانی ہجرت کے ایک انوکھے المیے کی تاریخ کی کئی ضغیم کتابوں سے بہتر ترجمانی کرتا ہے۔
اِس نمائش میں شامل کچھ تصاویر اتنی ہی مشہور ہیں جتنا کہ وہ واقعات جن پر یہ تصویریں اتاری گئیں جبکہ کچھ مختلف تکنیکی وجوہات اور ڈیڈ لائن گزرجانے کے بعد موصول ہونے کی وجہ سے کبھی بھی منظر عام پر نہ آسکیں۔ اِس نمائش اور کتاب کے زریعے (بی پی پی اے) نےاپنے ممبران کے کام کے ساتھ ایسا انصاف کیا ہے جو شاید وہ اخبار یا ادارے بھی نہیں کرسکے جن کے لئے یہ لوگ اپنی جان جوکھوں میں ڈالتے رہے ہیں۔ پوری دنیا کے عوام کو رنگ، نسل اور قوم کے امتیاز کے بغیر حقائق کو جو کا توں دکھادینے میں اخباری فوٹوگرافر شاید صحافت کی دوسری جہتوں میں سب سے آگے ہیں۔ ویسے تو ایسے ان گنت نام ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریاں نبھاتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن ان میں ایک نام BPPA کے ایک ممبر آئن پیری کا بھی ہے جو 1989 میں رومانیہ انقلاب کو کور کرتے ہوئے مارے گئے۔ BPPA اور سنڈے ٹائمز نے مل کر اُن کے نام سے ایک ایسا ٹرسٹ قائم کیا ہے جو نوجوان فوٹوگرافروں کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف کاموں کے علاوہ ایک سکالر شپ بھی دیتا ہے۔ برٹش پریس فوٹوگرافرز ایسوسی ایشن کا قیام 1984 میں اخباری فوٹوگرافروں نے کیا تھا تاکہ اِس کے ممبروں کی اپنے پیشے میں اعلی درجے کے اصولی، تکنیکی ، اور تخلیقی کام کے لئے حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ اُنکے پیشہ ورانہ حلقوں سے باہر بھی اُن کے کام کی پزیرائی کرائی جاسکے۔ اِس ایسوسی ایشن کے ممبران جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، برطانیہ میں اخباری فوٹوگرافی کے پیشے کی بحثیت روزنامہ، میگزین اور ایجنسی فوٹوگرافر کے اِس ایسوسی ایشن کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔
ایک زمانے میں لندن کی فلِیٹ سٹریٹ اخباری دفاتر اور چھاپے خانوں کے لئے مشہور ہوا کرتی تھیں۔ زیادہ تر اخبار کے دفاتر اب یہاں سے شہر کے دوسرے حصوں میں منتقل ہوگئے ہیں لیکن رائیٹرز خبررساں ایجنسی کا دفتر اب بھی یہیں موجود ہیں۔ صحافت کی تاریخ کی اِس مشہور سڑک پر واقع چیشر چیز نامی پب میں پب کے مالک کے طوطے کے انتقال پر ایک مشہور روزنامے میں گزشتہ صدی چھپنے والے انتقال پرملال کا نوٹس آج بھی آویزہ ہے۔ اِس پب سے ذرا آگے ایک چرچ ہے جسے عرف عام میں صحافیوں کا چرچ بھی کہا جاتا ہے۔ اِس چرچ میں آلٹر سے بائیں ہاتھ پر دیوار پر آویزاں ایک پلیٹ پر اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریاں نبھاتے ہلاک ہونے والے صحافیوں کے نام کندہ ہیں۔ جب سے عراق جنگ چھڑی ہے اس پلیٹ کے آگے رکھی میز پر جلتی شمعوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ یہ ادھ جلی شمعیں ’5000 دن‘ تصویری نمائش میں شامل فوٹوگرافروں کے کام میں حائل خطرات کا ایک زندہ ثبوت ہیں۔ ’پانچ ہزار دن‘ پندرہ سال لمبا اور دو صدیوں کے درمیان ایک ایسا سفر ہے جس کو آپ اِس دور کے بہترین نقاشوں کی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں۔ 5000 دن کی نمائش نیشنل تھیٹر، ساؤتھ بینک، لندن میں ہفتہ چار دسمبر 2004 تک جاری ہے اور داخلہ مفت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||