’مزاحمت کاروں کی کمر توڑ دی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی شہر فلوجہ پر فوجی آپریشن کے انچارج امریکی جنرل نے کہا ہے کہ حالیہ آپریشن میں مزاحمت کاروں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ امریکی میرین کے سینئر کمانڈر جنرل جان سیٹلر نے کہا ہے کہ فلوجہ پر بڑے آپریشن کے بعد مزاحمت کار بکھر چکے ہیں لیکن مزاحمت کار اب بھی امریکی فوجیوں کے لیے سردردی بنے ہوئے ہیں۔ امریکی فوجی کمانڈر نے فلوجہ میں جانی نقصان کے بارے میں کہا کہ مزاحمت کاروں کی ہلاکت کی بارے اخباروں میں لگائے جانے والے اندازے کافی حد تک درست ہیں۔ ان اندازوں کے مطابق امریکی فوجی آپریشن کے دوران بارہ سو سے زیادہ عراقی مزاحمت کاروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ عراق کی عبوری حکومت نے کہا ہے کہ فلوجہ شہر میں خوراک اور طبی امداد بھیجی جائے گی۔ امریکہ کی طرف سے اس بیان کے بعد فلوجہ آپریشن کےمقاصد پورے ہو چکے ہیں اور شہر کو مزاحمت کارروں سے پاک کر دیا گیا ہے، اب بھی فلوجہ شہر کے جنوبی ضلع سے اب بھی مزاحمت جاری ہے اور امریکی فوجوں پر حملے ہو رہے ہیں۔البتہ ان حملوں میں پہلے والی شدت نہیں ہے۔ فلوجہ میں ابھی تک بجلی اور پانی کی سہولیات معطل ہیں۔ عراق کی عبوری حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ شہر میں طبی سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ فوجی آپریشن کے دوران گھروں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق فلوجہ میں متاثرہ خاندانوں کو سو ڈالر معاوضے کے طور پر بھی دیے جائیں گے اور انہیں واپس شہر میں بسایا جائے گا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ مزاحمت کار فلوجہ کو اپنی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے ایک نمائندے نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ فلوجہ کے بڑے ہسپتال میں ادویات تو فراہم کردی گئی ہیں لیکن زخمی وہاں نہیں پہنچ پا رہے۔ ’شہر میں اتنی سخت لڑائی جاری ہے کہ ہم اندر داخل نہیں ہوسکتے اور ہمیں وہاں عام شہریوں کے بارے میں سخت تشویش ہے۔‘ ریڈ کراس کے نمائندے اب یہ کوشش کررہے ہیں کہ امریکی افواج انہیں شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت دے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||