بلئیر، شیراک بات چیت آج ہوگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلئیر اور فرانسیسی صدر ژاک شیراک کے مابین جمعرات کو مذاکرات ہو رہے ہیں۔ عراق کے مسئلے پر فرانس اور برطانیہ کے تعلقات میں کھنچاؤ کے بعد صدر ژاک شیراک کا یہ پہلا دورۂ برطانیہ ہے۔ ژاک شیراک کا یہ دورہ فرانس اور برطانیہ کے دوستانہ تعلقات کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں ہے۔ بدھ کو صدر شیراک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں اس بات کا یقین نہیں کہ صدام کے بغیر یہ دنیا محفوظ ہے۔ برطانیہ نے عراق کے مسئلے پر دونوں ممالک کے اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختلافات کے باوجود دونوں رہنما ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وزیرِاعظم کے خصوصی ترجمان نے بتایا کہ مذا کرات میں یورپی یونین، G8 گروپ میں برطانیہ کی ممکنہ صدارت، ماحولیاتی تبدیلی اور افریقہ اور افغانستان میں تعاون کے معاملات زیرِ غور آئیں گے۔ ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں رہنما شاید عراق کے مسئلے پر بات کریں۔ مذا کرات کے بعد دونوں رہنما لنکاسٹر ہاؤس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ بدھ کو بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں فرانسیسی صدر نے یہ عندیہ دیا تھا کہ عراق کی صورتِ حال نے دہشت گردی کو مزید ہوا دی ہے۔ اس انٹرویو میں ژاک شیراک نے کہا کہ عراق میں کسی بھی قسم کی مداخلت اقوامِ متحدہ کے ذریعے کی جانی چاہیئے تھی۔ انہوں نے کہا: ’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے جس کا ایک ماخذ عراق کی صورتِ حال ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||