کرزئی کو صدر قرار دے دیا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان انتخابات کی تحقیق کرنے والے پینل نے کہا ہے کہ ووٹنگ کی بے قاعدگیاں حتمی نتائج کو متاثر کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ اقوام متحدہ کے کمیشن کی اس رپورٹ کے بعد کرزئی کو سرکاری طور پر فاتح صدر قرار دے دیا گیا ہے۔ ایک اہلکار سلطان بہیم نے اس رپورٹ سے پہلے ہی صحافیوں سے کہہ دیا تھا کہ حامد کرزئی فاتح ہیں۔ تحقیق کرنے والے کمیشن نے اب سے کچھ دیر پہلے سرکاری نتائج کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ان انتخابات کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں جن میں سے بیشتر اس بات پر ہیں کہ ووٹرز کی نشاندہی کرنے والی سیاہی کچی تھی۔ جس کے باعث کئی افراد نے ایک سے زیادہ مرتبہ ووٹ ڈالا ہے۔ ان شکایات کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کی ایک تین رکنی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ اس پینل نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیش کردی ہے اور کہا ہے کہ ووٹنگ میں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں مگر اتنی نہیں کہ ان سے حتمی نتائج متاثر ہو سکیں۔ صدر کے حریف یونس قانونی نے پہلےہی اپنی شکست تسلیم کرلی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||