’عراقی فوج کے گیارہ اہلکار ہلاک‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک اسلامی شدت پسند گروہ نے اپنی ویب سائیٹ پر دعوٰی کیا ہے کہ اس نے بغداد کے نزدیک سے گزشتہ ہفتے اغوا کیے گئے گیارہ عراقی نیشنل گارڈز کو ہلاک کردیا ہے۔ انصار السنۃ نامی گروہ نے ان افراد کی تصاویر جاری کی ہیں جن میں سے کچھ پر بندوقیں تانی گئی ہیں۔ گروہ کا کہنا ہے کہ انہیں ’امریکی حملہ آوروں‘ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے جرم میں ہلاک کیا گیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے دعوٰی کیا ہے کہ ایک کا سر قلم کیا گیا ہے جبکہ دیگر کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ یہ دعوٰی ابو مصعب الزرقاوی کے گروہ کے اس بیان کے بعد جاری کیا ہے جس میں انہوں نے انچاس فوجیوں کو اغوا کے بعد قتل کرنے کا دعوٰی کیا تھا۔ انصار السنۃ گروہ نے کہا ہے کہ ان فوجیوں سے پوچھ گچھ کے بعد یہ ثابت ہوگیا تھا کہ وہ امریکی فوج کی حفاظت پر مامور تھے۔ کہا جارہا ہے کہ ایک تصویر سر قلم کرنے کے بعد فوجی کا سر واپس اس کے دھڑ پر رکھ کر کھینچی گئی ہے جبکہ باقی دس میں اہلکاروں کے ہاتھ ان کی کمر کے پیچھے بندھے ہیں۔ وڈیو میں عراقی نیشنل گارڈز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ امریکی فوج کے ساتھ تعاون نہ کریں۔ اس سال کے آغاز پر انصار السنۃ نے بارہ نیپالی یرغمالیوں کو اغوا کے بعد قتل کردیا تھا۔ کچھ عرصہ قبل گروہ نے ایک ترک ڈرائیور کو بھی یہ کہہ کر قتل کردیا تھا کہ وہ امریکی فوج کے لیے ساز و سامان لے جارہا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||