یہودی آبادکاروں کے لیے معاوضہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی کابینہ نے ایک مجوزہ قانونی بل کو منظور کیا ہے جس کے مطابق فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں قائم یہودی بستیوں کو خالی کرنے والوں کے لیے معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ اس بل پر منگل کو غور کرئے گی۔ مجوزہ قانون میں کہا گیا کہ یہودی آباد کاروں کی علاقے چھوڑنے کے عوض معقول معاوضہ دیا جائے گا۔ نقشۂ راہ کی شرائط کے تحت اسرائیل کو غزہ میں ان تمام یہودی بستیوں کو ختم کرنا ہے جو اس زمین پر واقع ہیں جو انیس سو سڑسٹھ کی جنگ کے بعد اسرائیل کے قبضے میں آ گئی تھی۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون کے یہودی بستیوں کو خالی کرنے کے فیصلے سے ان کی کابینہ میں تفرقہ بڑھ گیا ہے ۔ یہودی بستیوں کو خالی کرنے کے مجوزہ بل کو کابیینہ تیرہ وزیروں کی حمایت حاصل ہے جبکہ چھ وزیرں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ اس مجوزہ قانون میں لکھا گیا ہے کہ جو یہودی آباد کار بستیوں سے نکلنے سے انکار کریں ان کو سزا دی جائے گی۔ سخت گیر موقف رکھنے والوں نے وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کے بستیاں ختم کرنے کے منصوبے شدید مخالف کی ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ منگل کواس مـجوزہ بل پر غور کرئے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||