گوانتانامو ٹربیونل کے3 رکن برخاست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو کے قیدیوں پر چلنے والے فوجی مقدموں کے نگراں امریکی ریٹائرڈ جنرل نے سماعت کرنے والے ٹربیونل کے چھ میں سے تین افراد کو برخاست کردیا ہے۔ یہ کارروائی اس لیے کی گئی کہ قیدیوں کے وکلا نے ان پر تعصب کے الزامات عائد کۓ تھے۔ وکلا کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک رکن نے قیدیوں کو دہشت گرد کہا تھا۔ اب تک ٹربیونل کے متبادل ارکان کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیاگیا۔ ٹربیونل سے ہٹائے جانے والے افراد کے نام بھی ظاہر نہیں کیئے گئے ہیں۔ یکم نومبر سے ٹربیونل چار قیدیوں کے مقدمات کی سماعت کرے گا جنہیں دہشت گردی کے شبہے میں زیرِ حراست رکھا گیا ہے۔ پینٹاگون کے ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مقدمات کی سماعت مقررہ وقت ہی پر ہوگی۔ خلیج گوانتا نامو کے قید خانے میں تقریباً پانچ سو اننچاس قیدی ہیں جن میں سے اکثر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں افغانستان میں امریکی یلغار کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ نومبر میں ٹربیونل کے سامنے پہلا مقدمہ ایک آسٹریلوی باشندے ڈیوڈ ہکس کا جبکہ دوسرا مقدمہ یمن کے سلیم احمد ہمدان کا ہوگا۔ پہلے مقدمے کے بعد سوڈان کے ابراہیم احمد محمود اور یمن کے ہی علی حمزہ احمد سلیمان کے مقدمات کی سماعت کے لیے ٹربیونل کو اضافی ارکان فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||