فلوجہ پر حملہ نہ کیا جائے، عراقی تنظیم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں مسلم علماء کی تنظیم کے سربراہ شیخ حارث الداری نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فوج نے فلوجہ پر بڑا حملہ کیا تو اس کے خطرناک نتائج ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فلوجہ پر حملہ کیا گیا تو تمام عراقیوں کو چاہیے کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کر دیں۔ ان کا یہ بیان سنی رہنماؤں کے ایک اہم اجلاس کے بعد آیا ہے۔ گزشتہ ہفتے عراق کے عبوری وزیرِ اعظم ایاد علاوی نے فلوجہ کے شہریوں سے کہا تھا کہ وہ ملک کے سب سے بڑے اور مطلوب باغی ابو مصعب الزرقاوی کو حکام کے حوالے کر دیں ورنہ انہیں شدید حملوں کا سامنا کرے پڑے گا۔ مبصرین کہتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر امریکی فوج کا فلوجہ پر حملہ سیاسی جواء کھیلنے کے مترادف ہوگا۔ شیخ حارث الداری کی سربراہی میں ہونے والی ہنگامی کانفرنس میں مختلف سفارشات تیار کی گئیں اور ان میں سے ایک میں کہا گیا ہے کہ فلوجہ پر حملہ خطرناک نتائج پیدا کرے گا جس سے جانبین متاثر ہوں گے اور صورتِ حال اس سے ٹھیک نہیں ہوگی۔ اس سنی تنظیم نے حال میں اسلامی شدت پسندوں کی طرف سے اغوا ہونے والے غیر ملکیوں کی رہائی کی کوششوں میں شرکت کی ہے اور ان واقعات کی مذمت بھی کی ہے۔ لیکن یہ تنظیم عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کی مخالف ہے۔ تنظیم یہ بھی کہتی ہے کہ جب تک عراق میں امریکی فوج موجود ہے، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||