’کہِیں شیرون قتل نہ ہوجائیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں اپوزیشن کے ایک اہم رہنما نےاس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وزیرِ اعظم ایریئل شیرون غزہ سے فوج واپس بلانے کے منصوبے کے خلاف انتہا پسندوں کے ہاتھوں قتل ہو سکتے ہیں۔ شعمون پیریز نے’ماریو‘ نامی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی طرف سے ایریئل شیرون کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی فضا دیکھ کر انہیں سابق وزیرِ اعظم رابن کے آخری ایام یاد آ رہے ہیں، جنہیں قتل کر دیا گیا تھا۔ دائیں بازو کے انتہا پسند فوج سے کہہ رہے ہیں کہ وہ غزہ میں یہودی بستوں کو گرانے کے احکامات ماننے سے انکار کر دیں۔ پیریز کا کہنا تھا: ’مجھے ڈر ہے کہ کوئی وزیرِ اعظم (شیرون) کو قتل کرنے کی کوشش کرے گا۔‘ نومبر انیس سو پچانوے میں فلسطینیوں سے امن کے معاہدے کے خلاف اسرائیل میں سخت گیر موقف کے حامل افراد نے اسحاق رابن کو ایک امن ریلی کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ پیریز شمعون نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ملک کی اسٹیبلشمینٹ، جس نے سابق وزیرِ اعظم کے قتل کے بعد صورتِ حالات کا اچھی طرح تجزیہ کیا ہوگا، ایریئل شیرون کے متعلق خبردار ہے۔ اسرائیل غزہ سے اپنے سات ہزار آبادکاروں اور ان کی حفاظت پر مامور فوجیوں کو واپس بلانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ غربِ اردن کی چار یہودی خیمہ بستیاں بھی خالی کی جانی ہیں۔ مسٹر شیرون کا کہنا ہے کہ غزہ سے یہودی بستیاں ختم کرنے سے اسرائیل کی سکیورٹی میں اضافہ ہوجائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||