بغداد میں دھماکے، دس افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کے مطابق عراقی دارالحکومت بغداد کے ہائی سکیورٹی علاقے گرین زون میں دو دھماکوں کے نتیجے میں چار امریکیوں سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ گرین زون میں دو زور دار دھماکے سنے گئے جس کے بعد علاقے پر دھویں کے بادل چھا گئے۔ امریکی فوج مارٹر یا راکٹوں کے حملوں کے لیے ’بلاواسطہ حملوں‘ کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔ زخمحوں کو علاقے کے امریکی فوجی ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ بغداد کا گرین زون عراقی حکومت کے اہلکاروں اور امریکی افواج کی موجودگی کے باعث اکثر ہی شدت پسندوں کی کارروائیوں کا نشانہ رہا ہے۔ یہ علاقہ جس میں امریکی اور برطانوی سفارتخانے بھی ہیں، دریائے فرات کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔ بغداد میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن ہاؤلی کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس علاقے کو اکثر نشانہ بنایا گیا ہے لیکن یہاں ایسے حملوں سے کم ہی نقصان ہوتا ہے۔ اسی ماہ کے آغاز میں گرین زون کے ایک ہوٹل میں ایک بم دریافت ہوا تھا جسے بعد میں ناکارہ بنادیا گیا تھا۔ جس کے بعد برطانوی حکام نے اپنے اہلکاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ہوٹلوں پر جانے سے گریز کریں۔ جمعرات کے دھماکوں کے بعد شہر کے اوپر ایک ہیلی کاپٹر بھی دیکھا گیا تھا۔ ایک فوجی ترجمان کے مطابق اس علاقے میں دو دھماکے ہوئے تھے یعنی دو ’بالواسطہ حملے‘ کیے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||