بغداد میں دھماکے، دس افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کے سب سے زیادہ سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں دو بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں چار امریکی اور چھ عراقی شامل ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق گرین زون میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ سکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ گرین زون میں پہلے مارٹر وغیرہ فائر ہوتے رہتے ہیں لیکن اس کے اندر اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں نہیں ہوتیں۔ بغداد کا گرین زون عراقی حکومت کے اہلکاروں اور امریکی افواج کی موجودگی کے باعث اکثر ہی شدت پسندوں کی کارروائیوں کا نشانہ رہا ہے۔ یہ علاقہ جس میں امریکی اور برطانوی سفارتخانے بھی ہیں، دریائے فرات کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔ خیال ہے کہ دو میں سے ایک بم دھماکہ خودکش بمبار نے کیا تھا۔ ایک ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں ابو مصاب الزرقاوی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دھماکہ اس نے کروایا ہے۔ گروہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اس کا سب سے ’کامیاب آپریشن تھا‘۔ عراق کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم داؤد نے دھماکوں کے چند گھنٹے کے بعد کہا کہ ’یہ بزدلانہ کارروائی کرنے والے سزا سے بچ نہیں سکیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملے ’خودکش آپریشن‘ کا نتیجہ تھے۔ بغداد میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن ہاؤلی کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس علاقے کو اکثر نشانہ بنایا گیا ہے لیکن یہاں ایسے حملوں سے کم ہی نقصان ہوتا ہے۔ اسی ماہ کے آغاز میں گرین زون کے ایک ہوٹل میں ایک بم دریافت ہوا تھا جسے بعد میں ناکارہ بنادیا گیا تھا۔ جس کے بعد برطانوی حکام نے اپنے اہلکاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ہوٹلوں پر جانے سے گریز کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||