دوستم نے بائیکاٹ ختم کردیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ایک بڑے حریف جنرل عبدالرشید دوستم نے خود کو گزشتہ ہفتے کے انتخابات کے بائیکاٹ سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب انہوں نے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی اس تحقیق میں مدد کریں گے جو ووٹنگ کے حوالے سے شکایات کا جائزہ لے رہا ہے۔ جنرل دوستم ان پندرہ امیدواروں میں شامل تھے جنہوں نے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے افغانستان کے پہلےانتخابات کی کامیابی کے متعلق شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔ حکام کہتے ہیں کہ جمعرات سے قبل ووٹنگ کی گنتی شروع نہیں ہو سکے گی۔ اقوامِ متحدہ کی طرف سے مقرر کردہ ایک پینل نے شکایات کے اندارج کے لیے مزید اڑتالیس گھنٹے کا وقت دیا ہے۔ تاہم پینل کے ایک رکن کریگ جینس نے عندیہ دیا ہے کہ پولنگ سٹیشنوں سے ان بیلٹ باکسز کو الگ کرنے کے بعد جن کے متعلق شکایات ہیں، گنتی شروع کی جا سکتی ہے۔ افغانستان کے انتخابات میں اہم مرحلہ اس وقت آیا تھا جب یونس قانونی نے جو حامد کرزئی کے بڑے حریف ہیں یہ کہہ کر اپنا راستہ الگ کر لیا تھا کہ انہیں پولنگ کے طریقۂ کار پر ہی تشویش ہے اور یہ کہ اس کا ازالہ اقوامِ متحدہ کا تحقیقاتی مشن کرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||