مسجد سے تعزیتی کتاب چوری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں مارے جانے والے برطانوی شہری کینتھ بگلی کے بارے میں تاثرات درج کرنے کے لیے مسجد میں رکھی گئی تعزیتی کتاب چوری ہوگئی ہے۔ چوروں نے نہ صرف یہ کتاب غائب کر دی بلکہ وہ بگلی کی فریم شدہ تصویر، چند موم بتیاں اور ہمدردی کے اظہار میں لکھے گئے کچھ کارڈ بھی برمنگھم کی مرکزی مسجد سے لے اڑے۔ خیال ہے کہ کتاب ہفتے کے روز چوری ہوئی۔ اسے بگلی کے اہلِ خانہ کے پاس بھیجا جانا تھا تاکہ بگلی کے ساتھ ہونے والے سلوک پر مسلمانوں کے مذمت کے جذبات پہنچ سکیں۔ اس سال کے شروع میں بھی اسی مسجد سے سپین میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد تعزیت کے لیے رکھی گئی کتاب چوری ہوئی تھی۔ برمنگھم کی مسجد سے چوری ہونے والی کتاب ہفتے کو یہاں رکھی گئی تھی۔ برمنگھم سے مسلمانوں کے رہنماؤں نے اس کتاب پر اپنے دستخط کیئے تھے جس کے ذریعے وہ بگلی خاندان سے اپنی ہمدردی کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔ تاہم اتوار کو مسجد کے نگران نے یہ دیکھا کہ نہ کتاب مسجد میں تھی اور نہ بگلی کی تصویر۔ برمنگھم کی مرکزی مسجد کے چیئرمین ڈاکٹر محمد نسیم کا کہنا ہے : ایسی چوری کرنے والے بیمار لوگ ہیں۔ مجھے نہیں معلوم یہ کون لوگ ہیں۔ ہم اس واقعہ سے بہت پریشان ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||